142

سپریم کورٹ کا ایک اور بہت اچھا فیصلہ مرغیوں کی خوراک اور فروخت ہونے والے گوشت کے نمونوں کے ٹیسٹ کروانے کا حکم

سپریم کورٹ رجسٹری میں مرغیوں کو دی جانے والی خوراک سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے مرغیوں کی خوراک اور بازار میں فروخت ہونے والے گوشت کے نمونوں کے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مرغیوں کا گوشت کھانے سے خواتین اور بچوں کے ہارمونز میں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ عدالتی معاون نے کہا کہ مرغیوں کی خوراک میں قدرتی اجزاء شامل کرنے سے ہارمونز پر زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
عدالت نے چکن کے نمونوں کے ٹیسٹس کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ کمیٹی پولٹری فارمز سے مرغی اور اس کی خوراک کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کروائے۔ ٹیسٹ رپورٹ سے پتہ چل جائے گا کہ چکن میں کون سے مضر صحت ہارمونز موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں