43

چیف جسٹس کا فوڈ اتھارٹی کو صدیق مچھلی فروش، بشیر دارالماہی سمیت حلوہ پوری کی مشہور دکانوں پر چھاپے مارنے کا حکم

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے فوڈ اتھارٹی کو لاہور میں صدیق مچھلی فروش اور بشیر دارالماہی سمیت حلوہ پوری کی مشہور دکانوں پر چھاپے مارنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں صاف پانی وناقص اشیاکی فروخت کیخلاف ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ انسانوں کی صحت کامعاملہ ہے اس پر خاموش نہیں رہ سکتے،سب معاملات کی ذمہ داری صوبے کے چیف ایگزیکٹو پر عائد ہوتی ہے، وہ عدالت آئیں تو پوچھیں گے کہ صحت کے معاملے پر کیا اقدامات کیے۔
جسٹس ثاقب نثار نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کرکے کہا چیف سیکریٹری صاحب !سب آپ کے ماتحت ہے اسے دیکھناآپ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے تو کسی اور کو موقع دیں۔
چیف جسٹس نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو صدیق مچھلی فروش اور بشیر دارالماہی پرچھاپہ مارنے کاحکم دیتے ہوئے لاہور میں قائم حلوہ پوری کی معروف دکانوں کو بھی چیک کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سے 7روزمیں صاف پانی کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
واضح رہے کہ سابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتاز کے جانے کے بعد ہوٹلوں اور کھانے کی مشہور دکانوں پر صفائی کا معاملہ انتہائی ناقص ہوگیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ڈیفنس جیسے پوش علاقے Y بلاک کمرشل ایریا میں قائم ڈوگر ریسٹورنٹ سمیت دیگر ہوٹلوں پر صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں جبکہ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ مذکورہ ہوٹلوں کے ڈائننگ ایریا میں ہی سٹور بھی قائم کیے گئے ہیں جس میں گلی سڑی سبزیوں کی بدبو میں لوگ کھانا کھانے پر مجبور ہیں، اسی طرح مسابقت کی فضا نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ ریسٹورنٹ پر عام مارکیٹ میں 10 روپے میں ملنے والا انڈہ گاہکوں کو ہاف فرائی کرنے کے بعد 40 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ لاہور بھر کی دیگر دکانوں پر ہاف فرائی اور آملیٹ کا ریٹ 15 سے 20 روپے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں