85

حافظ سعید سے منسلک تنظیموں کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ

سلام آباد: حکومت پاکستان نے حافظ محمد سعید سے منسلک دو تنظیموں جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے مالی اثاثے ضبط اور ان کا انتظام سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید سے وابسطہ فلاحی اور دیگر تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگردوں کو ملنے والے مالی تعاون اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی رپورٹ پر 19 دسمبر کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی اور وفاقی اداروں کو حافظ سعید کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنے اور انہیں سرکاری تحویل میں لینے کے لیے حکمت عملی طے کرنے کی ہدایت کی گئی۔ 19 دسمبر کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے 28 دسمبر کو ایک اور اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ہوا۔ جس میں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی۔

انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ساتھ ہزاروں رضاکار اور سیکڑوں تنخواہ دار لوگ منسلک ہیں، اجلاس میں طے پایا گیا کہ حکمت عملی کے تحت پہلے مرحلے میں جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو سرکاری تحویل میں لیا جائے گا۔ جس کے بعد جماعۃ الدعوۃ کے زیر انتظام سیکڑوں مدارس اور مرید کے میں قائم مرکز کا انتظام سنبھالا جائے گا۔ اس سارے عمل میں انٹیلی جنس ادارے بھی متعلقہ محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

حافظ سعید کی دونوں تنظیموں سے متعلق اس فیصلے پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں کام کرنے والی تمام کالعدم تنظیموں کو امداد کی شکل میں ملنے والی رقوم کا راستہ روکیں اور یہ اقدام ہم نے امریکی دباؤ پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے اٹھایا ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی اینڈ ایکسچنج کمپنی (ایس ای سی پی) نے اقوام متحدہ کی واچ لسٹ میں شامل جماعت الدعوة سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کردی جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اپنے نوٹی فیکیشن میں کہا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے سکیشن 453 کے مطابق تمام کمپنیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کی کمیٹی کی لسٹ میں موجود اداروں اور افراد کو چندہ نہ دیں جب کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔

ادھر جماعت الدعوۃ نے اس قسم کی خبروں سے مکمل لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کوئی بھی بات حکومت کی جانب سے جاری حکم ناموں کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں