25

تمام پارٹیاں روڈ پر )تحریر طاہر فاروق طاہر(

تمام پارٹیاں روڈ پر )تحریر طاہر فاروق طاہر(

پاکستان کی سیاست میں آج کل بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈران اپنے دفاتر گھر باہر چھوڑ کر روڈ پر آنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس وقت کسی بھی پارٹی کو نہ پاکستان سے کوئی لگن ہے اور نہ ہی پاکستان کی عوام سے ۔ اس وقت تمام پارٹیاں ملک و قوم کو بھول کر اقتدار کے حصول کیلئے ایک دوسرے کی کرداری کشی میں لگی ہوئی ہیں ۔ تمام پارٹیوں کے درمیان الفاظ کی ایک جنگ جاری ہے جو نشتر و تلوارسے بھی زیادہ خطرناک صورت حال اختیار کر تی جا رہی ہے ۔ مہذب قومیں اپنے دشمنوں کیلئے بھی اچھے اور شاندارالفاظ استعمال کیا کرتی ہیں۔ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے چالیس سال تک خاموش رہ کر اپنے اخلاق سے وہ تبلیغ کی جس کو دشمنوں نے بھی مانا ۔ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی آج کیا کر رہے ہیں ہم اپنی زبان سے ایسے نشتر چلا رہے ہیں کہ ہمارے قریبی دوست ، بھائی اور بزرگ بھی ہماری زبان کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ آج کے دور میں ہماری زبان اتنی تیزی کے ساتھ چل رہی ہے کہ ہمارے دوستوں میں اضافہ ہونے کی بجائے ہمارے دشمنوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔حقارت ہمارے دماغوں میں اس طرح سما چکی ہے کہ ہم اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو حقیر ترین جانتے ہیں ۔ لوگ اپنے لیڈروں کی چاہت و محبت میں اس طرح غرق ہو چکے ہیں کہ ان کو اپنے لیڈر کے غلط قو ل و فعل بھی درست اور اچھے لگتے ہیں۔ جبکہ مخالفین کی درست اور اچھے قو ل و فعل کو ہم غلط رنگ دے کر لوگوں کے دل و دماغ تک پہنچاتے ہیں ۔ ہر پارٹی آئین کا رونا رو رہی ہے مگر کوئی بھی پارٹی آئین کی پاسداری نہیں کر رہی ۔ اداروں کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے اداروں کی اور اداروں کے سر براہان کی تذلیل کی جار ہی ہے ۔ یقین کریں ملک پاکستان کے صاحب عقل دانش اس وقت ملکی صورت حال کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان نظر آ رہے ہیں ۔ ہر سیاسی لیڈر یہ ہی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ میرا دامن صاف ہے اگر ان سیاستدانوں کے دامن صاف ہیں تو پھر دن بدن پاکستان کا زر مبادلہ کم کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟ عوام کی صورت حال بد سے بدتر کیوں ہوتی جار ی ہے ؟ پاکستان کے ادارے تباہ و برباد کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ پاکستان کے زر مبادلہ کو آگ لگا دی جاتی ہے یا کہ جنات اٹھا کر لے جاتے ہیں جو دن بدن خسارے میں جا رہا ہے ۔ قدرتی طور پر ہر لحاظ سے مالا مال سر زمین پاکستان کو ان لوگوں نے اپنی مرضی سے لوٹا ہے مگر پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ ہمارا دامن صاف ہے ۔ ہم اداروں کے خلاف سڑکوں پر نہیں آ رہے ہم انصاف کیلئے نکل رہے ہیں ۔ ہم بیس کروڑ عوام کی نمائندہ پارٹی ہیں اور ہم بیس کروڑ عوام کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے ۔عوام سڑکوں پر بھوک سے مرے تو کوئی نا انصافی نہیں ،اگر محترم میاں صاحب سے صرف اتنا پوچھ لیا جائے کہ آپ اپنے مال ومتاع تفصیل بتا دیں تو یہ نا انصافی ہے بیس کروڑ عوام کے ساتھ ۔اگر مسلم لیگ (ن) بیس کروڑ عوام کی نمائندہ پارٹی ہے تو پھردوسری پارٹیوں کے ساتھ جو لوگ نظر آتے ہیں کیا وہ پاکستان کی عوام نہیں ہیں ؟ یا پھر کسی دوسرے ملک کی عوام ہیں یا کہ کوئی خلائی مخلوق ہیں ۔یاد رہے کہ کوئی بھی پارٹی بیس کروڑ عوام کی نمائندہ پارٹی نہیں ہے ۔ اگر تمام سیاسی پارٹیاں اسی سوچ کے ساتھ ملک پر مسلط ہوتی رہی تو پھر یہ سیاست نہیں ہوگی یہ بھی ایک ڈکٹیٹرشپ ہی ہو گی۔ ہر سیاسی پارٹی کو دوسری سیاسی پارٹی کے ووٹرز کی قدر کرنا ہو گی، عزت دینا ہو گی ،تب جا کر پاکستان میں جمہوریت قائم ہو گی اور جمہوریت کا سبق ہی یہ ہے کہ ہر خاص و عام کی عز ت و تو قیر کی جائے ۔مگر ہم ہیں کہ صرف اپنے آپ کو ہی پاکستان کی بیس کرور عوام کا نمائندہ سمجھ لیتے ہیں اور دوسری پارٹیوں کے ووٹرز کو پاکستان کی عوام ہی تسلیم نہیں کرتے آخر یہ کب تک چلے گا ۔ اگر آپ اسی طرح عوام کی تذلیل کرتے رہے تو پھر آپ کو ہر بار نکلاجائے گا۔کیونکہ جن لوگوں کے دلوں میں عوام کی ہمدردی ہو گی جو لوگ عوام کے ساتھ نا انصافی برداشت نہیں کر سکتے وہ آپ کی ووٹر لسٹ سے خارج ہوتے جائیں گے ،پھر آپ کو اپنے پارلیمنٹ اور محلات چھوڑ کر سڑکوں پر آنا ہی ہو گا مگر اس وقت آپ کے ساتھ عوام نہیں ہو گی اس وقت آپ کے ساتھ آپ کے زر خرید غلام ہو نگے جو آپ کی ہر اچھی اور بری بات ماننے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے ، جن کے دماغ اور سو چ آپ لوگوں کے تاب ہو گی وہ لوگوں آپ کے ساتھ چلیں گے ان لوگوں کو ساتھ لے کر آپ بیس کروڑ عوام کا نعرہ نہیں لگا سکتے ۔ پاکستان کی صورت حال اس وقت بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے اگر ایک طرف سے مسلم لیگ (ن) بقول ان کے انصاف کی بہالی کیلئے عدلیہ کے خلاف سڑکوں پر آ جاتی ہے تو دوسری طرف سے ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بنا پر ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) کے خلاف نکل آتی ہیں تو پھر ملک کی کیا صورت حال ہو گی؟ پھر کون سنبھالے گا پاکستان کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو؟ آرمی پہلی ہی سیاستدانوں کے اس کھیل کے درمیان آنے سے انکار کر چکی ہے ۔ اور میاں نواز شریف صاحب اس موڈ میں نظر آتے ہیں کہ نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے ۔ اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان ایک لا ورث سا ملک نظر آ رہا ہے، جس کی حکومت بھی سڑکوں پراپنی ہی حکومت اور اداروں کے خلاف نکل رہی ہے اور جس کی اپوزیشن بھی سڑکوں پر ہے حکومت سے انصاف لینے کیلئے اب دیکھتے ہیں کس کو انصاف ملتا ہے ۔ عوام کے پاس نہ روٹی ہے اور نہ پانی مگر ہر سیاسی پارٹی کوخود کو بیس کروڑ عوام کی پارٹی کہتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتی ۔ ان سب سیاسی پارٹیوں کو انصاف مل بھی جائے تو بھی عوام کو ان کے ہاتھوں انصاف ملتا ہوا نظر نہیں آتا ۔

تحریر:
طاہر فاروق طاہر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں