47

تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر (طاہر فاروق طاہرؔ)

تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر (طاہر فاروق طاہرؔ)

دولت کا نشہ بھی عجیب ہوتاہے دولت کا نشہ دوسرے نشوں سے بہت مختلف ہوتا ہے ۔ جوبھی دوسرے نشے کیے جاتے ہیں ان نشوں میں انسان اپنی ذاتی زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ مگردولت ایک ایسا برانشہ ہے جس میں پورا خاندان بنتا ہے اور برباد بھی پورا خاندان ہی ہوتا ہے ۔دولت کا نشہ جب اپنے عروج پر ہوتا ہے تو انسان کو سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی حلا ل و حرام کی تمیز رہتی نہ ہی کسی غریب کی پہچان اور نہ ہی کسی یتیم کی دل میں محبت رہتی ہے ۔ رہتی ہے تو صرف اور صرف دولت کی محبت ۔اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ دولت اور اولاد آپ لوگوں کیلئے آزمائش ہیں بہت سے حکمران اوراپنے وقت کے نیک لوگ جن کا ایمان اولاد اور مال کی چاہت میں برباد ہو گیا ۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے جو جس سے جتنی چاہت و محبت کرتا ہے اس کے دل میں اس کی اتنی ہی چاہت و محبت ڈال دی جاتی ہے اور قیامت کے دن وہ بندہ اس کی چاہت و محبت کے ساتھ اپنی قبر سے اٹھے گا ۔ جب دولت کے نشے کی پکڑ آتی ہے تو پھر ایک انسان کونہیں پورے خاندان کو لے ڈوبتی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی عوام نے دولت کی چاہت اور طلب کرنے والے حکمرانوں کو اچھے الفاظ کے ساتھ یاد نہیں کیا کیوں کہ ایسے حکمران اپنی عوام کے ساتھ محبت نہیں کرتے بلکہ دولت کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور عوام ایسے حکمرانوں کو اور ایسے حکمرانوں کے محلات کو نشان عبرت بنا دیتی ہے ۔ طارق بن یاد نے جب یورپ کو فتح کیا تو اس وقت اس کے دل میں صرف اور صرف اﷲ کے ایمان کی طاقت اور حضرت محمدﷺ کی محبت کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ اس سچے ایمان کے ساتھ طارق بن یاد نے صرف اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پورے یورپ کو فتح کر لیا تھا اور پورے یورپ میں اسلام کا پرچم سر بلند کیا تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا چلا گیا مسلمان اپنے سچے ایمان کو بھول کر دولت اور دنیا کی طلب میں مبتلا ہوتے چلے گے اور اپنے اصل مقصد کو بھول گے جب آپ اﷲ کے دین اور اپنی اصل راہ کو چھوڑ دیتے ہیں تو پھر اﷲ آپ پر دوسری قوموں کو مسلط کر دیتا ہے ۔ چند لوگوں کے ساتھ فتح کیا ہوا یورپ کروڑوں مسلمانوں سے چھین لیا گیا آخر کیوں ؟ جب وہاں سے مسلمانوں کو نکالا گیا تو نشان عبرت بنا دیا گیاکیونکہ یورپ میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اوریہاں تک کے مسلمانوں کا نام ونشان مٹا دیا گیا یورپ میں آج بھی اس دن کو اپریل فول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یورپ کے لوگ مسلمانوں کے قتل عام کے دن کو جھوٹ بول کر اور ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کر کے منایاکرتے ہیں ۔ مسلمانوں کے محلات اور قلعوں کو یورپ کے لوگ آج نشان عبرت کے طور پر سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ تاریخ کو اس لیے اوراق میں محفوظ کیا جاتا ہے کہ آئندہ آنے والی نسلیں اپنی گزری ہوئی نسلوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں ہم نے تاریخ کی کتابوں کو صرف اور صرف لائبریوں کی حد تک محفوظ کر کے رکھ دیا ہے ۔جب کبھی بات ہوتی ہے تو ہم اپنے اجداد کی مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں اس لیے تو علامہ اقبال نے کہا ہے ۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

اگر آج کے حالات کو دیکھا جائے تو دولت کی طلب و چاہت کی وجہ سے شریف فیملی آج کہاں کھڑی ہے ۔ شریف فیملی کا کون سا فرد ہے جو اس وقت مشکل سے دو چار نہیں ہے ۔اس کی وجہ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے صرف اور صرف دولت کی چاہت و محبت ہے ۔ وہ پاکستان جس کے ہر گلی کوچے سے نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) زندہ باد کی آواز آتی تھی۔ شریف فیملی آج اپنی اکثریت کو کھو چکی ہے ۔لوگوں کے دلوں سے مسلم لیگ کی اور شریف فیملی کی محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔ آخر کیوں اور ایسا کیوں ہوا ہے ؟ کیوں کہ شریف فیملی اور مسلم لیگ (ن) اپنی دولت اور جائیداد کا حساب نہیں دے سکے اور نہ ہی اپنے بزنس کوثابت کر سکے ہیں ۔جس کی وجہ سے عوام میں ان کے خلاف کافی حد تک بد دلی پھیل چکی ہے ۔ جن حکمرانوں کو پاکستان کی عوام اپنے محافظ اور اپنے مستقبل کاضامن سمجھتے رہے نہ تو وہ سچے محافظ اور نہ ہی اچھے ضامن ثابت ہوئے۔ حکمرانوں نے پاکستانی عوام کی بجائے اپنی نسلون کے مستقبل کے بارے میں سوچا مگر حکمران یہ بھول گے کہ اﷲ کی ذات کی پکڑ بھی آ سکتی ہے یہ حکمران اﷲ تعالی کی دی ہوئی نرمی کو اﷲ تعالی کی رحمت سمجھتے رہے۔ اﷲ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ حکمرانی کتنا نازک مرحلہ ہے یہ کوئی حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھے جو ساری ساری رات عوام کیلئے گلیوں اور گھروں کے چکر لگاتے تھے پھر بھی لوگوں کی شکایات ہو جایا کرتی تھی۔ وقت حاکم اگر نا انصافی کرتا ہے تو اس کیلئے بد دعا کرنے کیلئے ایک ہاتھ نہیں اٹھتا ہزاروں اور کروڑوں ہاتھ اٹھتے ہیں اور اﷲ اپنے فریاد کرنے والے کی فریاد کبھی رد نہیں کرتا ۔ جب مشکل وقت آتا ہے تو سب سے پہلے اپنے ہی چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں جیسے چوہدری نثار صاحب خفا اور ناراض نظر آتے ہیں سارے پاناما کیس میں چوہدری نثار صاحب نے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی اور نہ ہی شریف فیملی کا اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئے ۔ سیاسی لوگ وقت کی آوازپر اپنے فیصلے بدل لیتے ہیں کل جو لوگ مسلم لیگ (ق) میں چلے گے تھے نواز شریف کے جدہ جانے پر،جب نواز شریف صاحب واپس آئے تو وہ اپنی تمام وفاداریاں لے کر مسلم لیگ (ن) میں پھر شامل ہو گئے ۔ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا نہ ہی کوئی دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی کو ئی دوست وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے جو جان دینے کی بات کرتے ہیں وہ ہی جان لینے پر آ جاتے ہیں ۔ کیونکہ سیاستدانوں کے نزدیک عوامی مفادات کی بات نہیں ہوتی ہر سیاستدان کے اپنے ذاتی مفادات ہوتے ہیں جن کی خاطر وہ اپنے فیصلے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔پھر یہ ہی کہہ کر خاموش ہونا پڑتا ہے ۔

خود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا
اتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے

تحریر:
طاہر فاروق طاہر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں