89

تحریک انصاف غیر سیاسی پارٹی (طاہر فاروق طاہرؔ )

تحریک انصاف غیر سیاسی پارٹی (طاہر فاروق طاہرؔ )

اکثر ٹاک شوز میں یہ بات مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرف سے سننے کو ملتی رہتی ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی نہیں۔ مجھ کو اکثر اوقات پاکستان پر چالیس سے حکومت کرنے والی دونوں پارٹیوں کے ان الفاظ سے اختلاف ہو جاتاتھا ۔ کیونکہ میں پی ٹی آئی کو پاکستان کی مقبول ترین اور بہت تیری کے ساتھ پورے ملک میں پھیلتی ہوئی سیاسی جماعت سمجھتا ہوں مگر جب مخالفین یہ کہتے کہ تحریک انصاف سیاسی پارٹی نہیں ہے تو میں ان کے اس نقطے سے ہمیشہ اختلاف کرتا رہا ہوں۔ جب سے تحریک انصاف کے جہانگیر ترین اور عمران خان کاسپریم کورٹ سے فیصلہ آیا ہے میرے خیالات بھی آج ان لوگوں سے جا ملے ہیں جو تحریک انصاف کو غیر سیاسی پارٹی قرار دیتے ہیں ۔سچ کہتے ہیں وہ کہ تحریک انصاف ایک غیر سیاسی پارٹی ہے اس میں سیاسی سنجیدگی نہیں ۔ میرے ان الفاظ کے ساتھ میرے قارئین مجھ سے اختلاف کر رہے ہوں گئے کہ تحریک انصاف کیسے غیر سیاسی پارٹی ہے ۔ اب میرا حق بنتا ہے کہ میں ان نقاط پر سے پردہ اٹھاؤں جن کی وجہ سے تحریک انصاف کو چالیس سے ملک میں سیاست سیاست کھیلنے والی پارٹیاں سیاسی پارٹی نہیں مانتی اسے پہلے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹیوں کی کار کردی پر نظر ڈالتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کو ملک پر تین دفعہ حکومت کرنے کا موقع ملا مگر مسلم لیگ( ن) ہر بار اپنا دور حکومت مکمل کرنے میں نا کام رہی ۔ ہر بار حکومت میں نا کامی کی وجہ میں مسلم لیگ ( ن) کے مخالفین کو قرار نہیں دیتا۔ میں ان نا کامیوں کو مسلم لیگ (ن) کی غلط پالیسیوں اور بے جا طور پر ملکی اداروں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی وجہ کو ان کی ناکامی قرار دیتا ہوں ۔ ہر ادارہ جمہوری حکومت کے تحت ہوتا ہے ۔ یہاں پر کسی ادارے کے چپڑاسی سے لے کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر تک سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے لگائے جاتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف ، چیف جسٹس ، چیئر مین نائب، ڈی آئی جی ، آئی جی ، صوبوں کے گورنرز اس طرح تمام دیگر اداروں کے سر براہان حکومت کی مرضی سے لگائے جاتے ہیں ۔انسان انسان ہوتا ہے اور انسان کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی بھی ریموٹ کنٹرول ایجاد نہیں ہوا ،ہر انسان کے اندر ضمیر ہوتا ہے نہ جانے ضمیر کس وقت جاگ جائے اور وہ انسان وقت حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا شروع کر دے آپ لوگوں کو معلوم ہے کیا؟ وقت حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے ۔ یہ حاکمانہ سوچ ہی ہر بار وجہ بنتی ہے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی نا کامی کی ،کہ یہ لوگ اداروں کے سر براہان کو اپنا ذاتی ملازم سمجھ لیتے ہیں اور ان کو ریمو ٹ کنٹرول سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ انسان کا کوئی ریموٹ کنٹرول نہیں ہے ۔ اس طرح حکومت اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے کبھی کسی ادارے کر سر براہ کو قربانی دینی پڑتی ہے تو کبھی حکومت کو، جس د ن مسلم لیگ (ن) نے اس سو چ کے بغیر حکومت کی اس دن مسلم لیگ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن جائے گی ۔ اب میں آتا ہوں اپنے اصل ٹاپک کی طرف کہ تحریک انصاف غیر سیاسی پارٹی کیسے ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف نے کبھی کسی پارٹی کے ساتھ اپنے مفادات کیلئے میثاق جمہوریت نہیں کیااس نے سب سے پہلے ملکی مفادات کو مد نظر رکھا ہے اس لیے تحریک انصاف ایک غیر سیاسی پارٹی ہے ۔جب بھی ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر سیاسی مفادات کو پہلے نمبر پر لانے کی کوشش کی گئی ہے تو تحریک انصاف نے سیاسی مفادات پر ملکی مفادات کو سب سے پہلے قرار دیا ہے ۔اس لیے تحریک انصاف ایک غیر سیاسی پارٹی ہے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا تو تحریک انصاف والوں نے یہ فیصلہ من و عن تسلیم کر لیا اور انھوں نے ملک کی عدالت عظمیٰ پر کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیادوسری سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے ججز حضرات کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا اور ا ن کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اس لیے تحریک انصاف ایک غیر سیاسی پارٹی ہے ۔ اب نئے قانوں کے مطابق ایک کرپٹ ، نا اہل بد دیانت اور چور بندہ بھی پارٹی کو عہدہ رکھ سکتا ہے اس کے باوجود تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کے اپنے اوپرکرپشن الزامات ثابت ہو جانے کی وجہ سے انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ اس بنا پر میں تحریک انصاف کو ایک غیر سیاسی پارٹی سمجھتا ہوں ، کیونکہ پی ٹی آئی نے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے لیڈر کو بچانے کیلئے کوئی چور درواز ہ تلاش نہیں کیا کیونکہ سیاسی پارٹیاں ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے کوئی نہ کوئی چور دروازہ ضرور استعمال کرتی ہیں ۔آپ اس وقت تک وہ قانون کسی دوسرے پر نافذ نہیں کر سکتے جب تک وہ قانو ن آپ پہلے اپنے آپ پر نافذ نہیں کرتے، اس وقت تک آپ قوم کے لیڈر نہیں بن سکتے جب تک آپ کو اپنے ملک کے قانون پر عمل کرنے کی سو چ نہ ہو گی ۔ دوسرے ملکوں میں جا کر آپ ان کے بنائے ہوئے قوانین کی پاس داری کرتے ہیں۔ جب کے آپ اپنے ملک اپنی حاکمیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک کے تمام قوانین کو آپ کسی خاطر میں نہیں لاتے تو پھر کیسے آپ ملک کے حکمران ہوئے ؟ کیسے آپ قوم کے لیڈر ہوسکتے ہیں ؟اس سرد موسم میں سڑکوں پر بے لباس لیٹے ہوئے بچوں میں جب تک آپ کو اپنے بچے نظر نہیں آتے اس وقت تک آپ قوم کے لیڈر نہیں بن سکتے ۔ جب آپ کو بھوک اور پیاس لگے اس وقت آپ کسی بھوکے اور پیاسے کی بھوک اور پیاس کو محسوس نہیں کرتے تو آپ قوم کے لیڈر نہیں ہو سکتے ۔ جب آپ اپنے نرم وملائم بستر پر سو نے لگیں تو اس وقت آپ کو قوم کی فکر سونے نہ دے کہ میرے ملک کے کتنے لوگ بغیر بستر سو رہے ہیں ، جب آپ اپنے فرعونی محلات میں داخل ہونے لگیں تو دروازے پر آپ کو یہ سو چ اندر نہ جانے دے کہ میرے ملک کے کتنے لوگ بے گھر ہیں اس وقت آپ پاکستان کی سر زمین پر نہیں پاکستان کے لوگوں کے دلوں پر حکومت کریں گے ۔ پھر آپ کی حکومت کو کوئی نہیں گراسکتا ، پھر آپ کو لوگوں سے ہر جگہ پر یہ نہیں پوچھنا پڑے گا کہ مجھے کیوں نکالا ؟ اس وقت آپ کے اندر سے آواز آئے گئی کہ مجھے کیوں نکالا کیونکہ اس وقت آپ کی ذاتی سوچ پر ملک و قوم کی سو چ حکومت کر رہی ہو گی تب جا کر بنتے ہیں ما تیر محمد ، نیلسن منڈیلا، طیب اردگان، کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ میں خلفائے راشدین کی مثالیں کیوں نہیں دے رہا میری سوچ کے مطابق یہ حکمران کسی بھی صورت ان کی برابری کی قابل نہیں ہیں۔ اﷲ ہم کو اپنی انفرادی سو چ کو چھوڑ کر ایک اجتماعی سو چ دے (آمین)

تحریر:
(طاہر فاروق طاہرؔ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں