100

ما موں کی خوشی، تحریر طاہر فاروق طاہر

ما موں کی خوشی

آج کچھ مختلف لکھنے کو دل کر رہا ہے میرا عنوان تو آپ لو گوں نے پڑھ ہی لیا ہو گا (عنوان ہے ماموں کی خوشی)

یہ خاندان کو وہ رشتہ ہے جس کے بغیر کوئی بھی فیملی کا کام مکمل نہیں ہو سکتا چھوٹے سے چھوٹا ہو یا بڑے سے بڑاماموں کا شامل ہونا ضروری ہوتا ہے اس کامشورہ بھی ضروری ہوتا ہے اور مانا بھی جاتا ہے اگر نا مانا جائے تو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے ۔ خاندان کی کسی خوشی کے موقع پر اگر ماموں ناراض ہو تو محلے اور گاؤں کے لوگ پوچھتے ہیں ان کا ماموں نہیں آیا کتنا غلط کام کیا ہے انھوں نے ہر حال میں ماموں کا بلانا چاہیے تھا چاہے غلطی ماموں کی ہی کیوں نہ ہو ۔ اس طرح آج امریکہ پوری دنیا کا ماموں ہے ۔ کوئی فیصلہ لینا ہو یا کسی ملک نے اپنے دفاع کا کوئی کام کرنا ہو تو ماموں یعنی امریکہ کی اجازت ضروری ہوتی ہے ۔ اگر کوئی ملک اس کی اجازت کے بغیر کوئی کام کرتا ہے تو ماموں ناراض ہو جاتا ہے اور جب ماموں ناراض ہو جائے تو پھر اس کام کا ہونا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کے ماموں نے اپنی ٹانگ ضروری پھنسانی ہوتی ہے اور جہاں ماموں کی ٹانگ آ گی تو سمجھ لو کے ماموں کی ہی ماننی ہو گی ۔ آج آپ لو گ دنیا کے کسی بھی ملک کا جائزہ لو تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی بھی ملک ماموں یعنی امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں چل رہا ۔ چاہے وہ اقوام متحدہ ہو یا سلامتی کونسل،چاہے وہ ورلڈبینک ہو یا آئی ایم ایف سب کے سب ماموں کی مانتے ہیں ۔ اب میں اپنے ملک پاکستان اور بھارت کی بات کرتا ہوں جب بھی ان دونوں ملکوں نے اپنے طور پر اپنے خطے کی سلامتی کی کو شش کرنی چاہی تو ماموں یعنی امریکہ کو اچھا نہ لگا جب بھی مذاکرات کا عمل شروع ہوا اور دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرنے لگے تو ماموں کو غصہ آ گیا کیونکہ ماموں کو اچھا نہیں لگاتا کہ یہ دونوں ملک ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ ملک کر چلیں اور ان کا دفاعی بجٹ کم ہو۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ دونوں ملک ترقی کی راہ پر چل نکلیں گے ۔ ایسا ہو گیا تو امریکہ کو ایشیاء سے دم دبا کر بھاگنا ہو گا اور جو وہ اپنا اسلحہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم کر کے پیسے وصول کرتا ہے اس میں کمی آ جائے گئی اور یہ دونوں ملک خود کفیل ہو جائیں گے تو میرے وجود کا کیا بنے گا ۔ یہ سب سو چ کر وہ اپنی ایجنسیوں کو حرکت میں لاتا ہے جس کا پاکستان اور بھارت کے اندر بہت عمل دخل ہے اور اس طرح دونوں ملکوں کے بدلتے ہوئے حالات ایک بار پھر سے خراب ہو جاتے ہیں۔ اور دونوں ملک نا چاہتے ہوئے بھی بارڈر اپنے فوجی جوانوں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ انھوں نے امریکہ یعنی ماموں کی نہیں مانی تھی ماموں نے دونوں ملکوں کو سمجھایا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ راضی نامہ نہیں کرنا پر یہ دونوں ملک جب پھر سے مذاکرات کی ٹیبل پر آتے ہیں تو ماموں کو یہ اچھا نہیں لگتا اور وہ اپنی تمام تر کو ششوں کو حرکت میں لا کر ان دونوں ملکوں کے درمیان وہ خون خرابہ کرتا ہے کہ یہ دونوں ملک کہیں سال تک اپنے زخموں کو نہیں بھول پاتے جو ان کو نہ چاہتے ہوئے ماموں یعنی امریکہ کی وجہ سے لگتے ہیں ۔یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ماموں پھر سے باعزت اور ان دونوں ملکوں کی پھر سے جگ ہنسائی۔ بارڈر کے اس طرف اور اُس طرف خون کا رنگ ایک ہے ۔ ایک ہی نسل کے لوگ رہتے ہیں اور صدیوں سے پورانے رشتے دار ہیں پتا نہیں یہ دشمنی کیسی ہے ۔ پلیز خدا کا نام لو اور پیار اور محبت کا درس دو اس دشمنی میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ بس ماموں کی خوشی ہے ان دونوں ملکوں کی خوشی نہیں ہے اور نہ ہی ان دونوں ملکوں کی عوام کی خوشی ہے۔ میری عرض ہے ان حکمرانوں سے پلیز اپنے ملکوں کی عوام کی خوشی کیلئے کام کرو نہ کہ ماموں کی خوشی کیلئے

(اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں