159

پاسپورٹ آفس کرپٹ مافیاکے نرغے میں اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے انے والے سائلین زلیل وخوار ہونے لگے انتظامیہ خاموش تماشائئ بن کر رہ گئی

منڈی بہاوالدین۔پاسپورٹ آفس کرپٹ مافیاکے نرغے میں اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے انے والے سائلین زلیل وخوار ہونے لگے انتظامیہ خاموش تماشائئ بن کر رہ گئی پاسپورٹ کے اندر کھڑکی پر بیٹھا شخص جس کا نام طارق جو کہ ایک معمولی سیکورٹی گارڈ ہے یاد رہے کہ وہ پاسپورٹ آفس کا انچارج ہے کیوں کہ ہر آنے والا انچارج پہلے اس کرپٹ ترین سیکورٹی گارڈ کو سلامی دیتا ہے پھر چارج لیتا ہے اس کرپشن کے بےتاج جو کرپشن پر مہارت رکھنے جی وجہ سے ہر انے والے پاسپورٹ آفیسر کو مخصوص ہدایات دیتا ہے جس پر آفیسر خاموش مورتی کی صورت خالی مُجسمہ بن کر رہ جاتا ہے اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے انے والے سائلین پھر رشوت دیےبغیر حج یاعمرہ جیسی سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں یہ سیکورٹی گارڈ نہ صرف کرپٹ ہے بلکہ بداخلاق اور چرب زبان ہونے کے قصے بھی عام ہیں یہ ایف سی کے نام پر سارہ دن ہزاروں روپے اکٹھے کرتا ہے جو بعد میں سب بڑے پیار سے برابر میں تقسیم کرتے ہیں اگر کوئی شخص بڑے صاحب کے پاس چلا جاے تو اندر بیٹھا بے یارو مدد گار اور بے بس پاسپورٹ آفیسر پھر اس شخص کو واپس ایسی سیکورٹی گارڈ کے پاس بھیج دیتا ہے ہے عوام الناس نے ڈی جی پاسپورٹ سے پُر زور اپیل کی ہے کہ اس بداخلاق چرب زبان حد سے زیادہ کرپٹ شخص کے خلاف کاروائی عمل میں لا کر فوری طور پر فارغ کیا جاے تاکہ لوگ پاسپورٹ آفس آتے ہوے کسی خوف کے مرتکب نہ ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں