24

غلام ابن غلام ہی پیدا کرتے جاؤ گے کیا؟(طاہر فاروق طاہر)

غلام ابن غلام ہی پیدا کرتے جاؤ گے کیا؟

کچھ لو گ ایسے ہوتے ہیں جن کو غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کافوراً اساس ہو جاتا ہے ۔ ایسے لوگ اﷲ کو بہت پیارے ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اﷲ ہمیشہ ہدایت کی طرف بلاتا رہتا ہے ۔کیوں کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ میرا پیارا مجھ سے دور جائے اﷲ تو ہر ہستی سے زیادہ پیار کرنے والا ہے اپنے بندے سے وہ بھی سترفیصد زیادہ۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو غلطی کرنے کے بعد مزید غلطیاں کرنے کا حوصلہ ہو جاتا ہے۔ان کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا وہ جو بھی کرتے ہیں اس کو اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں چاہے وہ ظلم ہو، زیادتی ہو، ناانصافی ہو، چاہے کسی بھی قسم کا ظلم ہو وہ لوگ کر گزرتے ہیں نہ ان کو ندامت ہوتی ہے اور نہ ہی شرمندگی ایسے لوگوں سے اﷲ اپنا منہ موڑ لیتا ہے اور ان کو کھلی چھٹی دے دیتا ہے ۔ظلم کر کر کے اور دولت کی چاہت میں ایسے لوگوں کے دلوں پر اﷲ تالے لگا دیتا ہے یہ لوگ غریب اور بے بس لوگوں کا حق ما رکر اصل میں دوزخ کا عذاب جمع کر رہے ہوتے ہیں یہ خود اور ان کے چاہنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اﷲ ان پر بہت زیادہ مہربان ہے مگر جو اﷲ جانتا ہے یہ لوگ نہیں جانتے ۔ کیونکہ ایسے لوگوں کیلئے اﷲ تعالی آخرت میں پکڑ رکھتا ہے جو نہ ختم ہونے والی پکڑ ہے ۔کسی پر دولت کی وجہ سے اﷲ کا ر اضی ہو نا ثابت ہوتا تو اﷲ تعالی کے تمام نبیاء اکرام اپنی قوم میں سب سے زیادہ امیر ترین ہوتے اور اﷲ تعالی دنیا کی ہر آرائش و آرام ان کو دیتا مگر ایسا ہر گز نہیں ۔تمام انبیاء اکرام صحابہ اکرامؓ اور اولیاء اﷲ ، ولی اﷲ کی زندگیاں دیکھ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جہاں اﷲ اور اﷲ کے نبی ﷺ کی چاہت آ جاتی ہے وہاں پر دنیاوی مال و دولت کا کوئی موجود کوئی قیمت اور کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ جیسے حضرت خدیجہ ؓ مکہ کی امیر ترین تاجر تھیں مگر جب آپ نے سلام قبول کیا تو آپؓ کے نزدیک دنیا کے مال و دولت کی کوئی قیمت نہ رہی اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کو دیکھا جائے تو آپ نے اپنا سب کچھ سردار دوجہاں حضرت محمد ﷺپر قربان کر دیا گھر باہر ما ل و دولت اولاد سب کچھ صحابہ اکرامؓ نے سلام اور عشق مصطفی ﷺ پر قربان کر دیا ۔ ان سب قربانیوں کے بدلے اﷲ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلئے آخرت میں جو ہمیشہ رہ جانے والی زندگی ہے اس میں اجر رکھ دیا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر کبھی بھی اندازہ مت لگائیں کے اس پر اﷲ تعالی کا کتنا فضل و کرم ہے ۔ اﷲ تعالی نے قرآن پاک میں ارشا فرمایا ہے مال و دولت اور اولاد آزمائش ہے میں لوگ کو یہ دے کر بھی آزماتا ہوں اور لے کر بھی ۔ اب اگرانبیاء اکرام اور صحابہ اکرامؓ اور اولیاء اﷲ کے مخالف لوگوں کو دیکھا جائے تو ان لوگوں کو دنیا کا ہر آرام و آرائش میسر تھا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ ان لوگوں کا آخرت کی زندگی میں اﷲ تعالی نے کوئی حصہ نہیں رکھا ۔ اﷲ تعالی نے ایسے لوگوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کر لو جو کر نا ہے ایک دن تو تم لوگوں نے میرے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس وقت میں تم لوگوں سے تمام حساب لونگا ۔ آج تو امیر لوگ دنیا کی دولت لوٹ کر اپنے آرام و سکون کو حاصل کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لو گ ایسا کیوں کرتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ یہ دنیا فانی ہے کچھ بھی یہاں ہمیشہ رہ جانے والا نہیں ہے۔ پھر بھی اتنا لالچ کہاں سے آ جاتا ہے انسان میں جس کو اﷲ تعالی نے اشرف المخلوکات کہا ہے جب انسان درندگی پر آتا ہے تو درندے بھی شرما جاتے ہیں ۔ چند پیسوں کی خاطر انسان د وسرے انسان کو قتل کر دیتا ہے ایسا کیوں ہے ؟ قتل کرنے والے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ زندہ میں نے بھی نہیں رہنا پھر ایسا کیوں کرتا ہے؟ ہمارے اندر اخلاقیات کی بہت کمی ہو چکی ہے ہمارے سیاستدان جن کو ہم اپنا ماڈل بنا کر پیش کرتے ہیں پوری دنیا کے سامنے کیونکہ یہ چند لوگ پوری دنیا میں ہماری قوم کی نمائندگی کرتے ہیں پارلیمنٹ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں عقل و دانش کے ماہر اور ہر اونچ نیچ پر نظر رکھنے والے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے ۔ یہ تمام نمائندے اپنی قوم کے ہر امیر و غریب کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے پارلیمنٹ نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ اب کرپٹ نااہل اور چور ، ڈاکوں آپ کے لیڈر ہوا کریں گے جن کے بارے میں آپ کی زبان سے ایک لفظ بھی ادا کرنا جرم سمجھا جائے گا۔ اب پارلیمنٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی عدالت پارلیمنٹ سے زیادہ طاقتور نہیں ، پارلیمنٹ کے لوگ جب دل چاہے عدالت عظمی کے فیصلے کو ردی کے ٹوکری میں ڈال سکتے ہیں ۔ پارلیمنٹ کے اس فیصلے سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ اب کسی بھی ادارے کا سر براہ اگر کرپٹ ہے تو اس کو کوئی بھی نہیں نکال سکتا ۔ اگر محسوس کیا جائے تو اس قانون پر شرمندگی ہونی چاہیے مگر ہم ہیں کہ اپنے آقا ؤں کے غلام ہم اپنے آقاؤں کے سامنے زبان درازی نہیں کر سکتے ۔اندھے لوگوں کا راج ہے ہمارے ملک میں اپنی عقل اور سو چ اپنے آقاؤں کی غلام بنا رکھی ہے ہم لوگوں نے اگر وہ کہتے ہیں کہ گدھے کر سر پر سینگ ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہاں جی اتنے بڑے سینگ تو ہم نے کبھی کسی اور جانور کر سر پر نہیں دیکھے ، جب نا خدا کہتے ہیں کوا سفید ہے تو ان چاہنے والے ہر طرف اعلان کر دیتے ہیں کہ آج سے کوا سفید ہے کسی نے کوے کو کالا بولا تو اس کو مجرم سمجھا جائے گا۔کیسی نا انصافی ہے ہم خود ہی نہیں بدلنا چاہتے تو ہماری تقدیر کیسے بدلے گی اب وقت سو چنے کا ہے ضائع کرنے کا نہیں اگر اب بھی نہ سو چا تو اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جاؤ کے غلام ابن غلام ہی پیدا کرتے جاؤ گے کیا ؟

تحریر:
(طاہر فاروق طاہر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں