82

اقبال ایک غیر اہم شخصیت، تحریر محمد ندیم اختر

اقبال ایک غیر اہم شخصیت

اپنے کردار پہ ڈال کر پردہ اقبال
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے
9نومبر 1877 کا دن اقبال کی پیدائش کادن،کشمیری خاندان شیخ نور محمد کے ہاں آنکھ کھولی. یہ خاندان اٹھارویں صدی کے اوائل میں مسلمان ہوا. سیالکوٹ میں سکونت اختیار کی. اقبال کے بزرگ صوفیانہ مزاج رکھتے تھے.بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے.
میں اول درجے کے ساتھ فلسفہ میں ایم اے کیا. میں گورنمنٹ1899
3
جون 1903 کالج میں فلسفے کے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے.زمانہ طالب علمی سے شاعری کا شوق تھا. گورنمنٹ کالج سے رخصت پر انگلینڈ گئے وہاں کیمرج یونیورسٹی اور میونخ یونیورسٹی سے فلسفے کی اعلیٰ ڈگریاں لے کے وطن لوٹے. یورپ سے واپسی پر شکوہ اور جواب شکوہ تخلیق کیا.
میں آپ کی ادبی خدمات کے پیش نظر آپ کو سر کا خطاب دیا. 1922
1930 میں مسلمانوں کے لیے خطبہ آلہ آباد میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا. 1935 سے آپ کو گلے کا مرض شروع ہوا اور بیماری نے زور کیا جس سے 21 اپریل 1938 کو عالم اسلام کا سپاہی بادشاہی مسجد کے پہلو میں ابدی نیند جا سویا.
علامہ اقبال بلاشبہ ایک عظیم مفکر کہلانے کے لائق ہیں. ان کی شاعری میں مسلمانان ہند کے لئے ایک ولولہ تھا. جس کا نتیجہ پاکستان کی شکل میں پیش ہے. نومبر 2015 کو گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے سرکاری کاموں میں حرج کی وجہ سے اقبال ڈے کی چھٹی کو کینسل کر دیا گیا.
2017 میں وفاقی حکومت نے وزارت داخلہ کو 9 نومبر کی چھٹی کی سمری بھیجی مگر وزارت داخلہ نے اس شعر کے ساتھ مسترد کر دی
میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہ حر کے لیے جہاں میں فراغ
اقبال کو غیر اہم جانتے ہوئے نسل نو
کو اقبال کے تصور زندگی کو متعارف کروانے کا ذریعہ ختم کر دیا گیا.
پاکستان کے لیے اب اقبالیات نہیں بلکہ سیاسیات زیادہ اہم ہے. پاکستان کے قومی دنوں کا مقام اسی صورت ہی
برقرار رہتا ہے جب ہم اپنی قومی
شخصیات کا وقار بحال رکھیں گےاور یہ اسی صورت برقرار رہے گا جب آپ پاکستان کے قومی دنوں پرقومی تعطیلات کا خیال رکھیں
گے. پرائمری سکولوں کے بچوں کے اذہان اب ناپختہ ہیں ان کو بتایا ضرور جاتا ہے قومی دنوں کا مگر ان کے ناپختہ اذہان کو اور ہمارے قومی تشخص کو کیسے بحال کیا جا سکتا ہے. ہمارے قومی ہیروز کو کس طرح یاد کیا جا سکتا
ہے. یہ باتیں حاکم وقت کے سوچنے کی ہیں شاید
قومی دن پر چھٹی کرنا فائدہ یا نقصان اس کا فیصلہ بھی زبردستی حاکم وقت کے پاس
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
قائل نہیں ایسے جنجال کا مومن

Written By:

Muhammad Nadeem Akhtar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں