122

منڈی بہاؤالدین الیکشن 2018

منڈی بہاؤالدین الیکشن 2018

اس وقت منڈی بہاؤالدین میں الیکشن 2018 ء کی مہم اپنے عروج پر نظرآ رہی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے منتخب نمائندے بھر پور طریقے سے عوامی کاموں میں مشغول ہیں ہر کونسلر ، چیئر مین، ایم پی اے ، ایم این اے، 2018 ء تک اپنے تمام ترقیاتی کام مکمل کر کے آنے والے الیکشن میں اپنی کامیابی کی کوششیں کررہے ہیں ۔ جس طرح سیاست میں اپنے منظور نظر لوگوں کو نوازا جاتا ہے اسی طرح سیاسی لوگ بھی اپنے منظور نظر لوگوں کے کام سب سے پہلے کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ سڑکیں جن پر سے گزرنا مشکل تھا آج ان سڑکوں کی تعمیر نو بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے ۔ منڈی بہاؤالدین کے مختلف محلوں گلیوں اور نالیوں کے کام بہت تیزی کے ساتھ مکمل کیے جا رہے ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت نے اپنے آخری کارڈ استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔ منڈی بہاؤالدین کے لوگوں نے تقریباً پانچ سال ان مشکل اور خطرناک ترین گلیوں اور سڑکوں پر گزارے ہیں بہت سے لو گ سڑکوں اور گلیوں کی بد حالی کی وجہ سے حادثات کا شکار ہوئے اور کچھ لوگ ان حادثات کی وجہ سے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اﷲ کے فضل و کرم سے اب منڈی بہاؤالدین کے لوگوں کی قسمت تو جاگی ہے ۔ لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ الیکشن تک کام مکمل ہو ہی جائیں گے ۔ اس لیے تو کہتے ہیں کہ سیاست چاہے جیسی بھی ہو مارشل لا ء سے اچھی ہو تی ہے کیونکہ سیاسی لوگوں نے آخر عوام کے پاس لوٹ کر آنا ہی ہوتا ہے، چاہے چارسال نہ سہی آخری سال تو سیاستدانوں کو اپنے کام مکمل کروانے ہی ہوتے ہیں ۔جو سیاستدان آخری سال بھی اپنے ترقیاتی کام مکمل نہیں کرواتے ان کو عوام منتخب نہیں کرتے۔ میرا ایک مشورہ ہے قانون سازی کرنے والے اداروں سے اگر ہم ترقیاتی کاموں کو تیزی کے ساتھ مکمل کروانا چاہتے ہیں تو الیکشن کی مدت پانچ سال سے چار سال کر دی جائے تو اس طرح سیاستدانوں کو ٹائم بھی کم ملے گا اور ترقیاتی کام بھی تیزی کے ساتھ مکمل ہو ں۔ باقی آپ لوگوں کی مرضی ہمارے لیے تو آپ لوگ پہلے بھی اچھے تھے اب بھی اچھے ہی ہوں گے اور آئندہ تو بہت ہی ا چھے ۔ یہ تو کار کر دگی تھی مسلم لیگ (ن) کی اب نظر ڈالتے ہیں اس علاقے کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پر جو اس علاقے کی دوسری بڑی سیاسی جماعت تھی وہ اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں آپ لوگوں نے ٹھیک خیال کیا ہے میں پیپلز پارٹی کی ہی بات کر رہا ہوں پیپلز پارٹی کے تمام سیاسی لیڈر اور ورکرز اب پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں اس لیے پنجاب کے دوسرے شہروں کی طرح اس شہر میں بھی پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کو الیکشن سے پہلے ہی رہا دیا ہے ۔ اب پیپلز پارٹی کی جگہ پی ٹی آئی نے لے لی ہے ۔ پی ٹی آئی بہت تیزی کے ساتھ منڈی بہاؤالدین کے تمام حلقوں میں مقبول ہوتی جا رہی ہے اور بہت مظبوط نمائندے پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں ۔ اپنی الیکشن مہم کو اور کامیاب کرنے کیلئے پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان صاحب 20 اکتوبر 2017 ء کو تشریف لا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی والے اپنے لیڈر کے استقبال کیلئے بھر پوری تیاری کر رہے ہیں ۔ اتنے نمائندے تو مسلم لیگ (ن) کے پاس بھی نہیں ہیں جتنے نمائندے اس وقت پی ٹی آئی کے پاس ہیں منڈی بہاؤالدین میں اس دفعہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیا ن بہت ہی کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے ۔کافی حد تک امید کی جا رہی ہے کہ عمران خان کے منڈی بہاؤالدین آنے پر پی ٹی آئی کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو گا۔ بظاہر جو نظر آ رہا ہے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس وقت منڈی بہاؤالدین کے تمام حلقوں میں برابر نظر آ رہی ہے ۔ ملک پر چالیس سال سے زیادہ عرصہ حکومت کرنے والے لوگوں کا مقابلہ اس وقت چار سالہ نامولود سیاسی جماعت سے ہے ۔ اپنے چار سال کے سیاسی دور میں پی ٹی آئی الیکشن کے بغیر ہی پیپلز پارٹی کو شکست دی چکی ہے ۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ورکروں اور لیڈروں کی نیندیں بھی حرام کر رہی ہے ۔ اگر یہی حال رہا تو ہو سکتا ہے آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی بازی لے جائے اور مسلم لیگ کے گلے میں پاناما پھنس جائے ۔ اس الیکشن میں منڈی بہاؤالدین کے تمام حلقوں کا اہم کردار ہو گا۔ مسلم لیگ بہت تیزی کے ساتھ ترقیاتی کام کر رہی ہے اور دوسری طرف پی ٹی آئی بھی اپنے تمام کارڈ استعمال کر رہی ہے ۔ کیا فیصلہ ہوتا ہے یہ 2018 ء کا الیکشن ہی بتا سکتا ہے ۔ہم کو دعا کرنی چاہیے کہ اب پاکستان کو سیاست ہی نصیب ہو کیونکہ ہر ادارے کو اپنا اپنا کردار ادا کرناہوگا تب جا کر پاکستان ترقی کرے گا۔ اﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے( آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں