32

گذشتہ 4 سالوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت جتنی مرتبہ بھی کم ہوئی ایک دفعہ بھی اس کا فائدہ عوام کو نہیں ہوا

منڈی بہاؤالدین(بیوروچیف) پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کافائدہ ٹرانسپورٹرز کو ملتا ہے مسافر من مانا کرایہ دینے پر مجبور ہیں،گذشتہ 4سالوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت جتنی مرتبہ بھی کم ہوئی ایک دفعہ بھی اس کا فائدہ عوام کو نہیں ہوا ۔ضلع منڈی بہاؤالدین کے تمام روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں میں ٹرانسپورٹرز سرکار کی طرف سے طے کردہ کرایوں پر عملدرآمد نہیں کرتے ستم ظریفی یہ ہے کہ مسافروں کی ’’سہولت‘‘ کیلئے لاری اڈوں پر جو کرایہ نامہ کے بورڈز آویزاں کئے جاتے ہیں ان پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا مثال کے طور پر منڈی بہاؤالدین سے گجرات کا کعرایہ 57روپے لکھا گیا ہے مگر تما مسافروینوں میں کرایہ 100روپے فی سواری وصول کیا جارہا ہے اسی طرح منڈی بہاؤالدین سے پھالیہ کا کرایہ 17روپے ’’شو‘‘ کرایا گیا ہے مگر 30روپے دھڑ لے وصول کئے جاتے ہیں اور مسافروں کو حکومتی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے وہ بلا چوں چراں من مانا کرایہ دینے پر مجبور ہیں اس سلسلہ میں کئے گئے ایک سروے میں سب سے پہلے ٹرانسپورٹرز حضرات سے زاید کرایہ کی وصولی کے بارے میں جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب حکومتی ادارے کرائے طے کرتے ہیں ہیں تو ٹرانسپورٹرز کی رائے کو خاطر میں نہیں لایا جاتا جب گاڑی اڈا سے نکلتی ہے تو ’’ٹائم‘‘ کے نام پر بھتہ دیا جاتا ہے جو کہ حکومتی خزانہ میں نہیں جاتا بلکہ وہاں پرائیویٹ بااثر اڈا مالکان کے جیبوں میں چلا جاتا ہے جو کہ سرکاری جگہ پر یہ وصولیاں کرتے ہیں مثلاً گجرات کی فی گاڑی سے 200روپے فی گاڑی وصول کیاجاتا ہے اس کے بعد اڈا کے ساتھ ساتھ راستہ میں کئی مقاماتا پر چی فیس بھی دی جاتی ہے علاوہ ازیں ہر گاڑی میں کم از کم دو سٹوڈنٹ بھی بٹھائے جانے کی ہدایات ہیں راستے میں کئی پوائنٹس پر ٹریفک پولیس ، سیکرٹری آر ٹی اے کے عملہ اور موٹر وہیکلز ایگزامینر وغیرہ کو بھی’’مطمعن‘‘ کرنا پڑتا ہے ۔ڈیزل انجن آئیل اور گاڑی کی مرمت کی مد میں بھی ہر ماہ ہزاروں روپے لگانے پڑتے ہیں انتظامیہ جو کرایہ نامہ طے کرتی ہے وہ ہمیں قابل قبول نہیں ہواتا سرکاری کاریہ نامہ پر عمل کرکے ہم روزانہ خسارے میں رہتے ہیں۔۔جب مسافروں سے اس سلسلہ میں پوچھا گیا تو انہوں سے اکثر نے کہا کہ ٹرانسپورٹروں نے آج تک سرکاری طے شدہ کرایہ نامہ پر عمل نہیں کیا جب بھی اس سلسلہ میں ڈرائیور یا کنڈکٹر سے بحث ہوئی بالآخر ہم ہی خاموش ہوئے یا بات لڑائی تک جا پہنچی ،کھٹارا گاڑیاں، تنگ نشستیں اور پھٹہ کا استعمال کی وجہ سے سفر سوہان روح بن چکا انتظامیہ بھی ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مل کر ہماری کھال اتارتی ہے اس سلسلہ میں ڈی سی منڈٰ بہاؤالدین سے اپیل کی گئی ہے کہ خدارا کرایہ نامہ پر عملدرآمد کرایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں