25

کربلا پاکستان اور امریکہ

کربلا پاکستان اور امریکہ
از قلم : ڈاکٹر تصور ھسین مرزا

پوری دنیا میں خصوصاً اسلامی دنیا میں شعیہ سنی سمیت تمام مسلمان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ کی عظیم قربانی کی یاد میں حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کو خراج تحسین ، اظہار یک جہتی کے لئے جلسے جلوس ، ذکر و فکر ، اور شیعہ حضرات تعزیہ ، نوحہ اور ماتم ، نذرو نیاز وغیرہ وغیرہ کرتے ہیں۔ سب کا ایک ہی مقصد ہے اپنے اپنے عقیدے کے مطابق نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فلسفہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا۔ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حق کی خاطر اپنے کنبہ کی قربانی دیکر اسلام کو بچا لیا تھا۔ یہ وہ عظیم قربانی ہے جو قیامت تک جب بھی حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوگا دنیا میں عظیم خاندان کی عظیم قربانی حق اور اسلام کے لئے سب کچھ قربان کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے ۔
ٰ؁؁؁؁؁؁؁؁؁؁؁ نہ مدرسے ، نہ مساجد، نہ فلسفہ ، نہ کلام
ثبوت ِحق کے لئے بس حسین ؓ کافی ہے!
محرم الحرام کا مقدس ماہ گزر رہا ہے ہمیں واقعہ کربلا کی روشنی اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگئی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت سے پاک فوج ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں کامیاب ہوئی اور کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں نوجوانوں سے ملاقات کی جن میں 173 طلبا اور فیکلٹی ممبرز کا تعلق بلوچستان کے تعلیمی اداروں سے تھا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے اور بلوچستان کے نوجوان سب سے زیادہ باصلاحیت اور متحرک ہیں، نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اس لئے آپ قومی سالمیت اور ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنی تعلیم اور کام پر بھرپور توجہ دیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بلوچستان کے بغیر نامکمل ہے، یہ ملک امن و استحکام اور بلوچستان کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا جب کہ ریاست دشمن عناصر غیر ملکی دشمن ایجنسیز کے تعاون سے پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکن نوجوان ان عناصر کے پروپیگنڈے سے گمراہ نہ ہوں اور منفی تاثر کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نوجوانوں کو محفوظ اور مستحکم پاکستان دینے کے لیے پرعزم ہے اور تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت سے پاک فوج ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں کامیاب ہوئی اور کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
حق کے لئے ’’ ڈٹ ‘‘ جانا ہمیں حضرت مام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سے ملتا ہے

کیا کسی نے خوب لکھا ہے
کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین
چرخِ نوع بشر کے تارے ہیں حسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

پاکستان کے پالیسی سازوں کو سمجھنا ہوگا جیسا کیہ خبروں کے مطابق
امریکی اور نیٹو افواج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ خطے کی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا ہے کہ نئی امریکی پالیسی کو جنوبی ایشیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کے اقدام کے طور پر نہ دیکھا جائے۔یہ بات افغان صدر اشرف غنی، امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ کی کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہی گئی ہے۔واشنگٹن میں موجود امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں امریکی سیکریٹری دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا اب دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرتا ہے۔اعلامیے کے مطابق جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان عمل میں پاکستان دوری اختیار کر سکتا ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بیان کردہ نئی حکمت عملی کو جس وجہ سے ہم خوش آئند کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ حکمت عملی خطے کی بڑی طاقتوں، پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خطے میں موجود تمام ممالک کو افغانستان میں افغان امن عمل میں حصہ دار بننے پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بھی اس عمل میں باہمی نقطہ نظر کے ساتھ شامل ہوں۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت کو اس خطے کی حکمت عملی میں شامل کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کو افغان امن عمل میں شامل نہیں کیا جاتا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔پینٹاگون اعلامیے کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے لیے نئی حکمت عملی پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم میں شامل ہونے کا ایک بہترین موقع ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکمت عملی میں خطے کے کسی بھی ملک کو الگ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس میں ان تمام ریاستوں کو شامل کیا جائے گا جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام چاہتی ہیں اور معصوم لوگوں کا دفاع کرتی ہیں۔جیمز میٹس نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو امریکا دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرے گا۔امریکی سیکریٹری دفاع نے واضح کیا کہ امریکا، افغان حکومت، نیٹو افواج اور جنوبی ایشیائی ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر افغان عمل کے حوالے سے کام جاری رکھے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ خطے میں موجود ریاستوں کو متحد کر کے طالبان، داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف متحرک کیا جائے۔
حضرت امام حسین علیہ اسلام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا آپ کے ذوق کے لئے

دنیا میں کہیں ، دین کا پیغام نہ ہوتا
قرآن، وحی، کعبہ، احرام نہ ہوتا
شبیر ؓ تا حشر یہ احسان ہے لوگو
دیتے نہ اگر سر تو یہ اسلام نہ ہوتا

اسلامی جموریہ پاکستان ایک ایسی مملکت اسلامی ہے جس کی بنیاد ’’ کلمہ طیبہ ‘‘ پر رکھی گئی ہے ۔ اور یہ ملک اسلامی جموریہ پاکستان دنیا میں اسلامی ممالک کی امامت کے لئے قائم ہوا ہے اور یہ دنیا کی سپر پاور ہے ۔ بس ہم کو صرف واقعہ کربلا کے عظیم ہیرو عظیم شہید، نواسہ رسول اﷲ ﷺ اور جگر گوشہ بتول ؓ اور شیر خدا کے آنکھوں کا تارہ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فلسفہ حیات کو عملی طور پر اپنانا ہوگا۔ جب ہم نے حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ کی حقیقی پیروی اور تعلیمات پر عمل شروع کر دیا تو پھر امریکہ سمیت پوری دنیا میں راج ہوگا صرف پاکستان کا ان شااﷲ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں