25

حکومت پنجاب صوبہ میں تعلیم کے فروغ کے لئے سر گرم

حکومت پنجاب صوبہ میں تعلیم کے فروغ کے لئے سر گرم

3تحریر : عثمان احمد سندھو

ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرمنڈی بہاؤالدین

تعلیم انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہے ، موجودہ دور میں تعلیم کے حصول کی بنا ترقی پزیر ممالک سے ترقی یافتہ ملک بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتاہے۔تعلیم کے شعبہ میں خاطر خواہ اقدامات کر کے ہم صف اول میں شمار ممالک کے چیلنچزکا مقابلہ کرسکتے ہیں تعلیم کے فرو غ سے ہی اقوام سا ئنس و ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبہ ُ زندگی جیسا کہ انرجی ، انفاسٹرکچر اور زراعت کے شعبہ نمایاں خدمات سر انجام دے سکتی ہیں۔جو اقوام شعبہ تعلیم کو نظر انداز کر کے دوسرے کاموں کو ترجیح دیتے ہیں ان کو صفہ ہستی سے مٹتے دیر نہیں لگتی ہے۔ صوبہ پنجاب پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔گزشتہ ادوار میں صوبہ پنجاب میں تعلیمی سہولیات کا فقدان نظرآتا تھالیکن گذشتہ چند سالوں میں صوبہ بھر میں ایجوکیشن ایمرجنسی کا نفاذکیا گیاجس کے تحت اس سال صوبہ پنجاب کے بجٹ میں سکول اور اعلٰی تعلیم کے لئے مختلف پرا جیکٹس کی مد میں117میلین روپے رکھے گئے ہیں۔جو کہ وزریراعلٰی پنجاب شہباز شریف کا تعلیم دوستی اور فروغ کے لئے ذاتی دلچسپی کا ہے۔صوبہ بھر میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔جس کے تحت 2016 تک ہر بچہ اور بچی کو سکول میں داخل کروانا ہے۔اس پر جیکٹ کے تحت سکول میں داخل ہونے والے ہر بچہ اور بچی کو مفت کتابیں اور یونیفارم فراہم کیا جائے گا۔صوبہ بھر میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں نئے اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی بھی اس نظریے کی ایک کڑی ہے۔جس کے تحت صوبہ بھر میں تعلیم کے فروغ کے قیام کے لئے پنجاب ایجوکیشن فانڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کے تحت پرائیوٹ سیکٹرز میں موجود سکولوں کو سرکاری سکولوں کا درجہ دیا گیا۔اور ان میں ہونہار طالب علموں کی فیس اور کتابیں پنجاب حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی۔مزید صوبہ بھر میں پنجاب ایجوکیشن انڈونمنٹ فنڈکا قیام بھی صوبہ بھر میں تعلیم کے فروغ کے لئے ایک موثر قدم ہے۔جس کے تحت ہونہار طلباء خصوصی جنوبی پنجاب کے طلباء کو وظائف دینے کا اعلان کیا گیا۔اس پروگرام کے تحت ہونہار طالب علموں کی فیس اور دوسرے تعلیمی اخراجات کی مد میں مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔دانش سکول سسٹم بھی حکومت پنجاب اور وزیراعلٰی شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پرشروع کیا گیا ہے۔دانش سکول سسٹم کے تحت اب تک کا ماڈل کیمپسز کا افتتاح کر دیا گیا ۔جن میں اٹک،میانوالی،ڈیرہ غازی خان،رحیم یار خان،چشتیاں اور حاصل پور شامل ہیں۔جس کا مقصد صوبہ کے دور دراز علاقوں میں کوالٹی تعلیم کا فروغ ممکن بنا نا ہے۔دانش سکول سسٹم کے تحت سٹیٹ آف دی آرٹ کیمپسز بنائے گئے ہیں۔جس میں صوبہ کے دوردراز کے علاقوں کے طلبا ء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔حکومت پنجاب کی خصوصی تعلیم دوستی اور کاوشوں سے ــــــپڑھا لکھا پنجاب کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔صوبہ بھر میں ان مفید پرا جیکٹس سے طلباء اور طلبات تعلیم کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔جن میں ایک بڑی تعداد غریب اور پسماندہ علاقوں کے طلباء کی ہے۔حکومت پنجاب اسی طرح تعلیم کے میدان میں توجہ دیتی رہی ہے اسی لئے پنجاب پڑھا لکھا پنجاب کہلارہا ہے ۔میدان تعلیم میں ضلع منڈی بہاؤالدین بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، ضلع منڈی بہاؤالدین کے 99 فیصد سے زائد سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔گزشتہ آٹھ سالوں میں سکول ایجوکیشن کے بجٹ میں 400 گنا اضافہ کے ساتھ محکمہ سکول ایجوکیشن کا تعلیمی بجٹ 62ارب روپے سے بڑھا کر 230 ارب روپے کر دیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت پنجاب کو ماڈل تعلیمی صوبہ بنا یا جا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب دنیا ہماری تعلیمی پالیسیوں کو فالو کرے گی۔ معاشرے میں تمام بچوں کو یکساں تعلیمی وسائل کی فراہمی ہمارا عزم ہے تا کہ کوئی بچہ غربت کی بنا پر تعلیم سے محروم نہ رہے ۔ اس طرح علم کا اجالا گھر گھر پھیلے گا اور تعلیم کے نور سے پورا ملک منور ہو گا۔ ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین حافظ شوکت علی نے بتایا کہ سکولوں میں عدم دستیاب سہولیات بشمول چار دیواری ، ٹوائلٹس ،بجلی، پینے کا صاف پانی اور فرنیچر وغیرہ کی دستیابی کی شرح کو ضلع منڈی بہاؤالدین میں 99 فیصد سے زائد تک مکمل کر لیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کی فیلڈ میں سکولوں میں کمپیوٹر لیبز اور ملٹی میڈیا سسٹم بنا دیا گیا ہے جبکہ سکولوں میں ٹیبلیٹس کی سہولیات سے آراستہ کیا جا چکا ہے اور یہی حقیقی گڈ گورننس ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں