44

ناجائزاثاثہ جات کیس؛ وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد

اسلام آباد: ناجائز اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کردی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ناجائز اثاثہ جات کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران وفاقی وزیر پر فرد جرم عائد کردی گئی، فاضل جج نے اسحاق ڈار کو الزامات پڑھ کر سنائے تاہم وزیر خزانہ نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزام کو غلط قراردے دیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام بے بنیاد ہے لہذا اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا دفاع کروں گا اور بے گناہی کو ثابت کروں گا۔
عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد اسحاق ڈار کے وکلا نے عدالت میں حاضری سے استثنا کی درخواست کی جس کی نیب نے مخالفت کی جب کہ عدالت نے استغاثہ کے 2 گواہان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
اسحاق ڈار کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے صحافی، میڈیا نمائندگان اور وکلا کو پولیس نے عدالت کے باہر ہی روک لیا، عدالت کے باہر لوگوں کی بے انتہا بھیڑ کے باعث بد انتظامی بھی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ سے اسحاق ڈار عقبی دروازے سے احتساب عدالت میں داخل ہوئے۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اوراسپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کو بھی پولیس نے اندر جانے سے روک دیا تاہم تھوڑی دیر بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دیدی گئی۔
ناجائز اثاثہ جات کیس میں 2 روز قبل اسحاق ڈار کے وکیل نے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکےجمع کراتے ہوئے عدالت سے جواب جمع کرانے کے لیے 7 روز کی مہلت طلب کی تھی جس پرعدالت نے ریفرنس کی مکمل نقل اسحاق ڈارکو فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی تھی۔
واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان پر 3 جب کہ اسحاق ڈار پر ایک ریفرنس دائر کیا ہے، گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے تھے اور عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 2 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں