51

بلیو وہیل چیلنج ہے کیا؟

یہ 9 ستمبر کی بات ہے، سہ پہر کو کلانا جھیل پر سیر کرنے آئے لوگوں نے دیکھا کہ ایک پولیس وین آئی، اس سے سپاہی اترے اور کسی کو ڈھونڈنے لگے۔ جلد ہی وہ ایک نوجوان لڑکی کے قریب جاپہنچے جو جھیل کنارے ایک بلند چبوترے پر کھڑی تھی۔
پولیس کو دیکھتے ہی لڑکی چبوترے کے سرے پر کھڑی ہوگئی۔ صاف لگتا تھا کہ وہ جھیل میں چھلانگ لگانا چاہتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس جگہ ہجوم جمع ہوگیا۔ سپاہی اور دوسرے لوگ بھی لڑکی کو کہنے لگے کہ وہ جھیل میں چھلانگ نہ لگائے مگر اس پر ان کی باتوں کا کچھ اثر نہ ہوا۔ لگتا تھا کہ وہ کسی سحر میں گرفتار ہے …جیسے کسی نے اسے ہپناٹائز کردیا ہے۔اچانک لڑکی نے جھیل میں چھلانگ لگادی۔ خوش قسمتی سے وہاں تین چار اچھے تیراک موجود تھے۔ انہوں نے بھی فوراً لڑکی کے پیچھے چھلانگ لگادی۔ غوطے کھاتی لڑکی کو بچالیا گیا۔ جب بے ہوش لڑکی کو پانی سے باہر نکال کر زمین پر لٹایا گیا تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کے بازو پر نیلی سیاہی سے ایک وہیل بنی ہوئی تھی۔
یہ سترہ سالہ لڑکی بھارت کے شہر جودھ پور کی باسی تھی۔ کلانا جھیل جودھ پور سے 8 کلو میٹر دور ہے۔ منال نامی وہ لڑکی دسویں جماعت کی طالبہ تھی۔ ایک دن اسے ’’بلیووہیل چیلنج‘‘ نامی کھیل کا لنک موبائل پر موصول ہوا۔ تجسّس کے ہاتھوں مجبور ہوکر منال نے وہ لنک ڈاؤن لوڈ کرلیا۔دوسری طرف سے کوئی نامعلوم شخص اس سے بات چیت کرنے لگا۔ اس نے بھارتی لڑکی کو تفصیل سے بلیو وہیل چیلنج کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس شخص کی لچھے دار باتوں نے منال کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ اسے اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں معلومات دینے لگی۔ حتیٰ کہ اپنی اور اہل خانہ کی تصاویر بھی بھجوا دی۔
اس کے بعد منال بلیو وہیل چیلنج میں حصّہ لینے لگی۔ نامعلوم شخص اسے روزانہ ایک ہدایت جاری کرنے لگا۔ یہ عجیب و غریب کھیل ثابت ہوا۔ اسے چلانے والا یا ’’ایڈمنسٹریٹر‘‘ پچاس دن تک حصہ لینے والے کو روزانہ ایک حکم یا ہدایت دیتا تھا۔ جب چیلنجر وہ حکم بجا لاتا، تو اسے تصاویر اور ویڈیو کے ذریعے وٹس اپ، فیس بک یا انسٹاگرام پر یہ ثبوت دینا ہوتا کہ اس نے واقعی حکم پورا کردیا۔گویا یہ چیلنج نما کھیل 50 دن پر محیط تھا۔ اس کھیل کی خصوصیت ایڈمنسٹریٹر کے انتہائی انوکھے احکامات تھے۔ ان کو جان کر عام انسان خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ کچھ احکامات آپ بھی پڑھیے:
٭ بلیڈ سے اپنے بازو پر ’’157‘‘ کا ہندسہ کھودو۔
٭ روزانہ صبح 4:20 پر بیدار ہو اور کیوریٹر (ایڈمنسٹریٹر) جو ڈراؤنی فلمیں نیٹ پر بھجوائے، وہ تنہائی میں دیکھو۔
٭ اپنے ہاتھ کی نسوں کو کاٹ لو مگر گھاؤ زیادہ گہرا نہ ہو۔ بس تین کٹ لگاؤ۔ ان کی تصویریں کیوریٹر کو بھجواؤ۔
٭ کاغذ پر وہیل کی تصویر بناکر اس کی فوٹو کیوریٹر کو بھیجو۔
٭اگر تم ’’وہیل‘‘ بننے کے لیے تیار ہو، تو اپنی ٹانگ پر چاقو سے ’’یس‘‘ (Yes) کھودو۔ اگر نہیں، تو اپنے جسم پر کئی کٹ لگاؤ (تاکہ خود کو سزا دے سکو)
٭ سارا دن ڈراؤنی فلمیں دیکھو۔
٭ کرین پر چڑھو۔
٭ چھت کی کگر پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھو۔
٭ اپنا ہونٹ بلیڈ سے کاٹ ڈالو۔
٭ آج کسی سے بات نہ کرو۔
ایڈمنسٹریٹر کا آخری حکم یا ہدایت یہ ہوتی ہے کہ (عام طور پر) چھت سے کود کر خودکشی کرلو۔ یہ کوئی خالی خولی بات نہیں بلکہ حقیقت میں ایسا ہوتا ہے… اور نوجوان لڑکے لڑکیاں اس ہدایت پر عمل کرکے اپنی جان بھی دے چکے۔
9 ستمبر کو منال صبح سے غائب تھی۔ والدین کچھ عرصے سے دیکھ رہے تھے کہ ان کی بیٹی چپ چاپ اور ڈپریشن زدہ رہتی ہے۔ اسی لیے وہ پہلے ہی اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اسے گھر سے غائب پایا تو فوراً پولیس کو مطلع کردیا۔ پولیس نے وائرلیس پر منال کا حلیہ نشر کر ڈالا۔ کلانا جھیل پر تعینات سپاہیوں نے ہیڈکوارٹر اطلاع دی کہ اس حلیے کی لڑکی وہاں موجود ہے۔ چناں چہ پولیس جھیل پر پہنچ گئی۔
پولیس نے منال کو گھر پہنچا دیا۔ لیکن اسی رات منال نے نیند کی گولیاں کھا کر پھر خودکشی کرنا چاہی۔ بروقت ہسپتال پہنچانے پر منال پھر زندہ بچ گئی۔ اب ماہرین نفسیات اس کا علاج کررہے ہیں۔منال نے ماہر نفسیات، ڈاکٹر کے آر ڈھوکا کو بتایا ’’بلیو وہیل چیلنج کے انڈمنسٹریٹر نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں چھت سے کود کر، ہاتھ کی نسیں کاٹ کر یا جھیل یا دریا میں چھلانک لگا کر خودکشی کرلوں۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے اپنی جان نہ لی تو وہ امی ابو کو مار ڈالے گا۔ میں اس سے بہت ڈرتی ہوں۔‘‘
٭٭
دنیا کی بیشتر ایجادات کے مانند انٹرنیٹ بھی فوائد اور نقصان رکھتا ہے۔ یہ دور جدید میں معلومات یا علم کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا۔ اس نے رابطہ کرنا بھی نہایت آسان بنادیا۔ مگر شیطان صفت انسان جلد اسے اپنی شیطانی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے بھی استعمال کرنے لگے۔ بلیو وہیل چیلنج نامی کھیل اس امر کا نمایاں ثبوت ہے۔دنیائے انٹرنیٹ کے سب سے بڑے انسائیکلوپیڈیا، وکی پیڈیا میں درج ہے کہ بلیو وہیل نامی کھیل کا موجد ایک روسی نوجوان، فلپ بوڈکن ہے۔ تاہم بیشتر ماہرین یہ دعویٰ تسلیم نہیں کرتے۔ وجہ یہ کہ اس کھیل کی ایجاد میں بہت سے لوگوں نے حصہ لیا ہے، البتہ یہ درست ہے کہ اس خونی اور خطرناک کھیل نے روس میں جنم لیا۔ اس کی وجہ روس میں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہونا ہے۔مغربی دنیا میں اپنے پڑوسی، لیتھونیا کے بعد روس ہی میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ وہاں ہر سال ایک لاکھ مردوزن میں سے سترہ اٹھارہ انسان خودکشی کرلیتے ہیں۔ 2004ء میں تو یہ شرح چونتیس پینتیس خودکشیوں تک پہنچ گئی تھی۔ شراب نوشی، تنہائی، بیروزگاری، معاشی و گھریلو مسائل خودکشی کرنے کی بڑی وجوہ ہیں۔
2010ء کے بعد جب سمارٹ فون کا چلن عام ہونا شروع ہوا اور ہر روسی چوبیس گھنٹے انٹرنیٹ سے منسلک رہنے لگا تو خودکشی کے سلسلے میں ایک اعجوبہ سامنے آگیا۔ ہوا یہ کہ روس کی انٹرنیٹ دنیا میں ایسی ویب سائٹس وجود میں آگئیں جو خودکشی کا رجحان رکھنے والے انسانوں کو خودکشی کرنے کے طریقے بتلانے لگیں۔ ماہرین ایسی روسی ویب سائٹس کو ’’سوسائیڈ کلب‘‘ (Suicide Club) کا نام دے چکے۔
اس سوسائیڈ یا خودکشی کلب میں شامل ویب سائٹس نے مردوزن کو موقع دیا کہ وہ بلیٹن بورڈ پر اپنے خیالات پوسٹ کرکے ایک دوسرے سے رابطہ کرسکیں۔ چناں چہ خاص طور پر ڈپریشن کا شکار نوجوان لڑکیاں ان ویب سائٹوں پر پہنچ کر دوسرے لوگوں سے یہ سوال کرنے لگے کہ وہ کیونکر خودکشی کرسکتے ہیں۔ لوگ انہیں خودکشی کرنے کے عجیب و غریب طریقے بتاتے۔ خاص بات یہ کہ جواب دینے والوں کی اکثریت خودکشی کا عزم کرنے والوں کو جان لینے پر ابھارتی اور انہیں مختلف ترکیبیں بتاتی۔ بہت کم ایسے لوگ تھے جو خودکشی کرنے والوں کو جان لینے سے روکنے کی خاطر مشورے دیتے۔
رفتہ رفتہ روس کے اس ’’خودکشی کلب‘‘ میں ایسے لوگ سامنے آگئے جو خودکشی کرنے میں دوسروں کی مدد کرنے لگے۔ مثلاً ایک شخص نے خودکشی پر مائل لڑکے کو بلیٹن بورڈ پر جواب دیا کہ آتی ریل کے سامنے وہ اسے دھکا دینے کو تیار ہے۔ ان لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ وہ خودکشی پر آمادہ انسانوں کی مدد کرکے ایک نیک کام انجام دیتے ہیں۔ پھر اس طرح دنیا بیکار اور بے فائدہ لوگوں سے پاک بھی ہوجاتی ہے۔ انسانی دماغ نہایت پُراسرار اور دیومالائی قسم کی شے ہے۔ اس کے ذریعے ہر انسان اپنے عمل کو جائز قرار دینے والے دلائل گھڑ ہی لیتا ہے۔
مروجہ انسانی اصولوں کے تحت کسی انسان کو دکھ یا تکلیف دینے والا شخص اذیت پسند، معاشرہ دشمن، نفسیاتی مریض، فزیوپیتھ، سادیت پسند وغیرہ کہلاتا ہے۔ مگر یہ دور جدید کا عجوبہ ہے کہ وہ ایسے مردو عورتیں بھی سامنے لے آیا جو دوسروں کو خودکشی کرنے کے طریقے سکھا پڑھا کر نہ صرف خوش ہوتے بلکہ اپنے کام کو نیک بھی سمجھتے ہیں۔ روس میں ایسے ہی ’’نیک راہ دکھانے والے‘‘ مردو زن نے ایسی ویب سائٹس بنالیں جن میں باقاعدہ ایک نظام کے تحت خودکشی کا رجحان رکھنے والے لوگوںکو رہنمائی دی جانے لگی۔ ان ویب سائٹس پر اکثر نیلی وہیلوں کی تصاویر بھی نظر آتیں۔ وجہ یہ کہ وقتاً فوقتاً وہیلیں نامعلوم وجوہ کی بنا پر ساحل سمندر پر آکر خودکشی کرلیتی ہیں۔یہ حیرت انگیز واقعہ انگریزی میں ’’بیچنگ‘‘ (beaching) کہلاتا ہے۔
اس عمل کا اگلا مرحلہ تب آیا جب اذیت پسند لوگ خودکشی کا رجحان رکھنے والے انسانوںکو گھیرنے کے لیے خاص طور پر ویب سائٹس بنانے لگے۔ یہ نفسیاتی مریض دوسروںکو تکلیف دے کر خوش محسوس کرتے ہیں۔ انہی اذیت پسندوں نے ’’بلیو وہیل چیلنج‘‘ کھیل کی بنیاد رکھی تاکہ خودکشی کے فعل کو زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز اور مہم جویانہ بنایا جاسکے۔ رفتہ رفتہ وہ ’’شکار‘‘ کو تلاش بھی کرنے لگے۔ یہی نہیں، اگلے مرحلے میں وہ خصوصاً ایسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی کھوج میں لگ گئے جنہیں خودکشی کرنے پر ابھارا جاسکے۔ اس ضمن میں بلیو وہیل چیلنج کھیل ان کا بنیادی ہتھیار بن گیا۔اس خوفناک کھیل کا لنک شروع میں روس کی ’’خودکشی کلب‘‘ میں شامل ویب سائٹس تک ہی محدود رہا۔ ماہرین کی رو سے اس کلب میں پندرہ سو سے لے کر دو ہزار تک ویب سائٹس شامل ہیں۔ بعدازاں یہ لنک سوشل میڈیا خصوصاً وٹس اپ اور فیس بک کے ذریعے پوری دنیا میں گردش کرنے لگا۔
جب یہ کھیل ساری دنیا میں مشہور ہوا تو جرائم پیشہ اور کاروباری لوگ بھی اس میں دلچسپی لینے لگے۔ جرائم پیشہ گروہوں نے ہیکروں سے ایسے وائرس تیار کرائے جو بلیو وہیل گیم کا لنک کھولتے ہی کھولنے والے کے سمارٹ فون میں خفیہ طور پر داخل ہوجاتے ہیں۔ یہ پیغام بر وائرس پھر سمارٹ فون میں محفوظ مالک کی ساری معلومات بذریعہ نیٹ اپنے آقاؤں کو بھجواتے ہیں۔ اگر اس معلومات میں کام کی چیزیں مثلاً بینک اکاؤنٹس وغیرہ کی تفصیل ہو تو جرائم پیشہ گروہوں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
جرائم پیشہ گروہوں کے علاوہ کاروباری لوگ بھی بلیو وہیل گیم کا لنک بناکر اسے واٹس اپ اور فیس بک وغیرہ کے ذریعے دنیائے نیٹ میں پھیلانے لگے۔ اس کھیل سے ’’پے پر کلک‘‘ (pay-per-click) کی وجہ سے کاروباری شخصیات کا مفادوابستہ ہوا۔ گوگل، مائیکروسافٹ، یاہو ، فیس بک ویب وغیرہ سائٹ مالکان کو فی کلک خاصی رقم دیتے ہیں۔ لہٰذا ویب سائٹ کو جتنے زیادہ وزٹر کلک کریں، مالک کو اتنے ہی زیادہ ڈالر ملتے ہیں۔ لالچی لوگوں نے اس عمل کو کمائی کرنے کا ناجائز طریقہ بنالیا۔ وہ لوگوں کو معمولی تنخواہ پر ملازم رکھ کر ان سے اپنی ویب سائٹ پر وزٹ کراتے یا پھر بلیو وہیل گیم جیسی کسی مشہور ہونے والی چیزوں کے لنک بناکر کمائی کرتے ہیں۔
ان لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا، وہ صرف کمائی کے دیوتا کی پوجا کرتے ہیں۔درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ بلیو وہیل گیم مختلف عزائم رکھنے والے لوگوں کا آلہ کار بن چکی۔ معاشرہ دشمن افراد اس کھیل کی وساطت سے اپنے شیطانی جذبات کی تسکین کرتے یا معاشرے سے انتقام لیتے ہیں ۔جبکہ جرائم پیشہ اور کاروباری شخصیات کے لیے یہ کمائی کا دھندا بن چکی۔احساس کمتری اور ڈپریشن کا شکار انسان سب سے زیادہ بلیو وہیل گیم میں دلچسپی لیتے اور شکاریوں کا شکار بنتے ہیں۔ اگر لنک کا ایڈمنسٹریٹر شیطان صفت ہو، تو وہ اپنے شکار کو دھمکیاں دے اور اپنی لچھے دار باتوں سے اس کے گرد جال بن کر معصوم لڑکے یا لڑکی سے کچھ بھی کرواسکتا ہے۔
پاکستانی والدین کو چاہیے کہ اگر ان کے بچے سمارٹ فون رکھتے ہیں، تو وقتاً فوقتاً اس آلے کا جائزہ لیتے رہیں نیز بچوں کے رویے اور حرکات وسکنات پر نگاہ رکھیں۔ اگر بچہ تنہا رہنے لگے، کسی سے بات نہ کرے اور معمولی بات پر مشتعل ہوجائے، تو جان لیجیے کہ ممکن ہے وہ بلیو وہیل چیلنج کھیل رہا ہو۔ اسی طرح گھر والے ایسے رکن پر نظر رکھیں جو ڈپریشن کا شکار ہو۔ بلیو وہیل چیلنج کے ایڈمنسٹریٹر ایسے ہی انسان کو نشانہ بناتے اور انہیں اپنے جال میں پھانس کر اپنے مفادات کی تکمیل کرانے لگتے ہیں۔ دنیائے انٹرنیٹ ایک خطرناک جگہ بن چکی۔ یہ بات خاص طور پر معصوم لڑکے لڑکیوں کو باور کرانا چاہیے تاکہ وہ شیطان صفت لوگوں کے کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں