57

تفتیشی افسران رل گئے گاڑیوں کی مرمت ، تفتیش فنڈز سمیت دیگر مراعات سے مرحوم افسران کا مدعیان کی جیبوں پر انحصار

ملک وال(نامہ نگار)تفتیشی افسران رل گئے گاڑیوں کی مرمت ، تفتیش فنڈز سمیت دیگر مراعات سے مرحوم افسران کا مدعیان کی جیبوں پر انحصار، گشت کے لیے موبائل گاڑیوں کو چوبیس گھنٹے کے لیے دس لیٹر جبکہ موٹر سائیکل پٹرولنگ کے لیے چوبیس گھنٹے کے لیے ایک لٹر پٹرول نہ ہونے کے برابر، عوام کے ساتھ ساتھ محکمہ کے اندر میرٹ کی بالادستی ڈی پی او فیصل مختار کے لیے چیلنج،با وثوق زرائع نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے منظور شدہ آنے والے تفتیش فنڈز ، گاڑیوں کی مرمت سمیت دیگر اخراجات کی مد میں جاری ہونے والے فنڈز اعلیٰ افسران کے دفاتر سے نیچے تک آتا ہی نہیں جس کے باعث تفتیشی افسران مقدمات کی پیروی و دور دراز ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کاروائیوں کے لیے مدعیان کی جیبوں پر نظر رکھنے پر مجبور ہیں جبکہ ضلعی افسران فوٹو سیشن اور سب اچھا کی رپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں نئے آنے والے ڈی پی او فیصل مختار کے لیے محکمہ کے اندر میرٹ کی سربلندی اور ملازمین کی مشکلات اور فنڈز کی نچلے لیول تک ترسیل ایک بڑا چیلنج ہے ، ضلع منڈی بہاوالدین میں پولیس نفری ضرورت سے بہت کم ہے ، منڈی بہاؤالدین پنجاب بھر میں نمایاں ضلع ہے آٹھ سال گزر جانے کے باوجود ضلعی پولیس میں بھرتی نہ ہونے کے سبب پولیس نفری ایک معمہ بن چکی ضلعی پولیس میں پانچ سو سے زائد آسامیوں پر بھرتی نہ کیا جانا محکمانہ ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ عوام ڈکیتیوں، چوریوں و دیگر وارداتوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں جبکہ جرائم پیشہ عناصر با آسانی جرائم کرنے میں مگن ہیں ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ڈی پی او دفتر میں تعینات عرصہ دراز سے سیاسی سفارشات پر تعینات عملہ پولیس سپاہیوں تک کو نہیں بخشتے انکوائری یا چھٹی کے سلسلہ میں جانے والے ملازمین جب تک عملہ کی جیبیں گرم نہیں کرتے تب تک کام نہیں ہوتا دیکھنا یہ ہے کہ نئے آنے والے ڈی پی او فیصل مختار اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جیسے ہے جوں ہے کی پالیسی اپناتے ہیں یا پھر ضلع بھر میں عوام الناس کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت ملازمین کے ساتھ فراہمی انصاف یقینی بناتے ہیں یا محض فوٹو سیشن پر اکتفا کرتے ہیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں