42

سوچی کا روہنگیا نسل کشی پرعالمی دباؤ قبول کرنے سے صاف انکار

ینگون: میانمار کی خاتون رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ وہ روہنگیا کے موجودہ بحران پر بین الاقوامی تحقیقات سے بلکل خوفزدہ نہیں ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر عالمی تنقید اور دباؤ کے بعد آنگ سان سوچی نے خاموشی توڑتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال پر بالآخربول پڑیں۔ آنگ سان سوچی نے ممکنہ تنقید سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھااورانہوں نے روہنگیا بحران سے اقوام عالم کو آگاہ کرنے کے لیے قوم سے خطاب کا سہارا لیا۔
آنگ سان سوچی نے ریاست راکھائن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی تشدد کی مذمت کی لیکن روہنگیا مسلمانوں پر فوجی مظالم کے خلاف بات تک نہ کی۔ انہوں نے کہا کہ 5 ستمبر کے بعد سے راکھائن میں کوئی مسلح تصادم نہیں ہوا۔ راکھائن میں تمام گروپوں کی تکلیفیں میانمار بھی محسوس کرتا ہے اور حکومت امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرکے قانون کی بالادستی قائم کرنے کےلیے پرعزم ہے۔
سوچی نے کہا کہ ہمیں بنگلادیش نقل مکانی کرنے والوں پر تحفظات ہیں مسلمانوں کی بڑی تعداد میانمار چھوڑ کرنہیں گئی اور اب بھی لاکھوں روہنگیا یہاں موجود ہیں۔ وہ روہنگیا بحران کی تفتیش کے عالمی دباؤ پر کسی طرح سے خوفزدہ نہیں ہیں اور غیرملکی سفرا میانمار آکر صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 21اگست کے بعد سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور 4لاکھ روہنگیا افراد کے نقل مکانی کرکے بنگلادیش میں پناہ لینے کے انسانی المیہ پر سوچی نے پہلی بار کسی فورم پر آکر حکومتی موقف دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں