58

جانداروں اور فطرت کے خوفناک روپ

کراچی: ہماری دنیا عجائبات سے بھری ہوئی ہے لیکن فطرت کے کارخانے میں جانداروں کے عجیب و غریب روپ اور ان کی عادات دیکھ کر انسان یکلخت حیران اور خوفزدہ رہ جاتا ہے۔
ذیل میں دنیا بھر میں لی گئیں ایسی تصاویر پیش کی جارہی ہیں جس میں فطرت کے عجیب پہلو اور عجیب و غریب جاندار دیکھے جاسکتے ہیں۔
آئیے فطرت کے اس تاریک اور خوفناک پہلو کو تصویروں کے ذریعے دیکھتےہیں۔ ان تصاویر میں قدرتی آفات اور مقامات کی چند تصاویر بھی شامل ہیں۔

پہلی تصویر میں ایک کھن کھجورا مادہ خود کو خوفناک انداز میں لپیٹ کر اپنے بچوں کی حفاظت کررہی ہے۔

دوسری تصویر میں مچھلی کے منہ کو ذرا غور سے دیکھیں۔ اس میں ایک طفیلیہ (پیراسائٹ ) نظر آرہا ہے جسے سائموتھیا ایگزیکوا کہتے ہیں۔ یہ مچھلی کے گلپھڑوں سے منہ میں داخل ہوکر اس کی زبان کھاکر وہاں بیٹھ جاتا ہے۔ اب مچھلی جو کھاتی ہے یہ پہلے اسے ہڑپ کرجاتا ہے۔

یہ ایک فنگس کی تصویر ہے جو کسی خلائی مخلوق کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اسے شیطان کی انگلی کا نام دیا گیا ہے۔

یہ ایک اور عجیب تصویر ہے جس میں الو نے خود اپنے اور اپنے بچوں کے لیے کھانے کا وسیع ذخیرہ کررکھا ہے ۔ ایک کے بعد ایک 70 سے زائد چھوٹے چوہوں کا شکار کرکے ان کے ڈھیر اپنے گھونسلے کی اطراف لگادیئے ہیں تاکہ کھانے کی وافر مقدار ملتی رہے۔

انٹارکٹیکا میں پایا جانے والا ایک خوبصورت کیڑا جسے دیکھنے پر گمان ہوتا ہے کہ یہ سنہرا ریشم پہنے ہوئے ہیں لیکن اس کا ڈنک دیکھ کر جھرجھری آجاتی ہے۔

دیکھئے تائیوان میں لینڈ سلائیڈ نے کس طرح ایک مصروف شاہراہ کو بند کردیا ہے۔

اس حیرت انگیز تصویر میں ایک طرح کی مکڑی نما مکھی کو دیکھا جاسکتا ہے جسے پینیسلیڈیا کہتے ہیں اور یہ جانداروں سے چمٹ کر ان کا خون پیتی ہے۔ بالخصوص یہ چکادڑوں کو بہت ستاتی ہے۔

ایک گھر میں چھپکلی جس کے دم کی مزید دوشاخیں نکل آئی ہیں۔

بہت کوشش کے باوجود اس مچھلی کا نام معلوم نہ ہوسکا لیکن غور سے دیکھیں کہ اس کے دانت بہت حد تک انسانوں سے مشابہہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں