58

برما کے خلاف جہاد کا اعلان

برما کے خلاف جہاد کا اعلان

بر ما کے خلاف مسلمانوں کے نا حق قتل عام پر مسلمانوں کا جہاد دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا ۔ جتنی تیزی کے ساتھ مسلمان نو جوان بر ما کے خلاف سو شل میڈیا پر جہاد کر رہے ہیں مجھ کو امید ہے کہ بر ما کے بدھ بھکشو اور مگھوں جلدی ہی بر ما چھو ڑ بھاگ جائیں گے ۔ کیونکہ مسلمانوں کا جہاد بہت تیزی کے ساتھ سو شل میڈیا پر زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس کو میں مسلمانوں کے ایمان کی طاقت سمجھوں یا کمزوری ، اس کو میں مسلمانوں کا راہ حق سے فرار سمجھوں یا کہ امن پسندی ، اس کو میں مسلمانوں کے دلوں میں امت محمدی کی محبت کو کم ہوتا ہوا محسوس کروں یا اس کو ماڈرن اسلام کہوں ، جذبہ جہاد کی کمی کہوں یا کہ اس کو جدید جہاد کا نام دوں میری سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آ رہا ہے ۔ البتہ جس طریقے اور انداز سے اسلام نے عروج حاصل کیا تھا وہ طریقہ اور انداز غیر مسلموں نے اپنا لیا ہے ۔ جس طریقے کی وجہ سے غیر مسلم زوال پذیر ہوئے تھے وہ طریقہ اور انداز مسلمانوں نے اپنا لیا ہے ۔ ایک مسلمان لڑکی کو ہندوستان میں ایک ہندو راجہ قید کر لیتا ہے اور وہ ایک خط لکھتی ہے مسلمانوں کے جرنیل اور ہزاروں میل کا سفر پیدل کر کے ایک بچہ جس کی عمر 17سال ہوتی ہے چند ہزار مجاہدین کے ساتھ ہندو ستان پر حملہ کر دیتا ہے اور ہندو ستان کی سلطنت کو فتح کر لیتا ہے ۔ اﷲ کا شکر ہے اس وقت سو شل میڈیا نہیں تھا ورنہ حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم بھی اس ہندو راجہ کے خلاف سو شل میڈیا پر بیٹھ کر کمنٹس کرتے اور اس طرح ہندو راجہ ڈر کر بھا گ جاتا محمد بن قاسم کونہ سفر کی تکلیف اٹھانی پڑتی اور نہ ہی تلوار اٹھانے ضرورت پیش آتی۔ اُس وقت غیر مسلموں کو شکست پر شکست کیوں ہو رہی تھی اور مسلمان فتح پر فتح کیوں حاصل کر رہے تھے کیونکہ اُس وقت مسلمانوں کا جذبہ صرف اور صرف راہ حق اور اسلام کی بقاء کیلئے تھا اور غیر مسلم کے دلوں میں صرف اور صرف دنیا کی محبت کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ اب مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار کیوں ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے دلوں میں دنیا اور دولت کی محبت گھر کر چکی ہے نہ ہی کسی کے دل میں راہ حق کا سچا جذبہ ہے اور نہ ہی اسلام کی سر بلندی کی چاہت ہے ۔ڈرہے توبس اتنا کہ میری اولاد اور میرا مال و دولت بچ جائے باقی چاہے ساری دنیا کو آگ لگ جائے ۔کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے نیوز چینلز پر ایک خبربہت زور و شور کے ساتھ چل رہی تھی کہ بر طانیہ میں چند بطخ کے بچے روڈ پر آ جاتے ہیں اور تمام ٹریفک جام ہو جاتی ہے اس وقت تک ٹریفک نہیں چلتی جب تک بطخ اور بطخ کے بچے روڈ کراس نہیں کرلیتے اسی طرح اور بہت سے ممالک میں دکھایا گیا ہے کہ ریسکیو کر کے بہت سے ممالک میں جانوں کی جان بچائی جاتی ہے ۔حقیر سے حقیر چیز کی جان کی حفاظت کرنے کا حکم اسلام میں آیا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے مجھ کو بہت خوشی ہوتی ہے جب چھوٹے چھوٹے جانوروں ، درندوں، پرندوں اور خطرناک ترین مخلو قات کی جان کی حفاظت کی جاتی ہے ۔ مگرانسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کی جان و مال کی حفاظت کرنے کا اﷲ تعالی نے بار بار کہا ہے ۔ کیا مسلمان انسان نہیں ہے ؟ کیاں مسلمان جانوروں سے بھی کم تر ہے ؟کیا مسلمان درندوں سے بھی زیادہ حقیر سمجھا جاتا ہے ؟ کیا مسلمان کو قتل کرنا غیر مسلموں کے نزدیک تمام مخلوقات کے مقابلے میں بہت کم تر ہے؟ جانوروں ، درندوں اور پرندوں کی زندگیاں بچانے والوں مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں؟ ۔برما کے مسلمانوں کو آج کتنی بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ مارا جا رہا ہے ۔ بر ما کے مسلمانوں کو مارااور قتل نہیں کیا جاتا ظالم بدھ بھکشو اور مگھوں معصوم بچوں سے لے کر جوان اور بوڑھے مسلمانوں کے زندہ جسموں کو کاٹدیتے ہیں اور مسلمانوں کے تڑپنے پر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔بلکہ یہاں تک دیکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا گوشت کھایا جا رہا ہے اور زیادہ تر مسلمانوں کو تشد د کے بعد زندہ جلا دیا جاتا ہے ۔میری سمجھ میں یہ ابھی تک نہیں آ رہا ہے کہ دنیا کا ہر ملک چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم یا حقوق انسانیت کا سب سے بڑا دعوے دارملک ہو سب کے سب خاموش کیوں ہیں ؟۔ مسلمانوں کے اس بے رحمانہ، بیمانہ اور سفاکانہ قتل عام پر خاموش رہنے والے اسلامی ممالک یہ مت بھولیں یہ آگ جو جل پڑی ہے تم کو بھی نہیں چھوڑے گی ۔اگر اس کا رستہ ابھی سے ہی روکالیا گیا تو یہ آگ بجھ جائے گی اگر یہ مزید بھڑک اٹھی تو تمام اسلامی ممالک اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے جو کہ پہلے ہی اس آگ کی لپیٹ میں ہیں مگرمسلمان آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ۔پوری امت مسلمہ ایک جسم کی مانند اگر جسم کے ایک حصے میں کینسر ہو جائے تو پورے جسم میں پھیل جاتا ہے ۔ یہ صرف برما کے مسلمانوں کا قتل عام نہیں ہے یہ وہ کینسر ہے جو پوری امت مسلمہ میں بہت تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔ اگر زندہ رہنا ہے تو اس کینسر کا علاج سوچ لیں تمام مسلمان ممالک مل کر، کون سا ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کو سر عام قتل نہیں کیا جا رہا ہے ۔ جس کا جب دل کرتا ہے وہ مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیتا ہے ۔ آخر کیوں اور اس کی وجہ کیا ہے؟ مسلمانوں اور اسلام سے غیر مسلموں کی اتنی نفرت کیوں؟آپﷺ ایک دن صحابہ اکرامؓ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے تو آپﷺ فرمانے لگے کہ مسلمانوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب تمام کفار اعلان کر کے ایک دوسرے کو دعوت دیں گے جس نے مسلمان کو شہید نہیں کیا او آکر مسلمان کو شہید کر لو، صحابہ اکرامؓ بہت پریشان ہو کر بولے کیا مسلمانوں کی تعداد اس وقت بہت کم ہو جائے گی کیا ؟ تو آپﷺ نے فرمایا نہیں اس وقت کے مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی مگر ان پر یہ زوال جذبہ جہاد کی کمی کی وجہ سے آے گا۔ برما جیسا ملک جس کی اوقات ہی کیا ہے؟ وہ مسلمانوں کو اپنی مرضی کے مطابق قتل کر رہا ہے ۔سو چنے کی بات ہے جب ہم برما جیسے ملک کو نہیں روک سکتے تو دنیا کے طاقتور ترین ممالک کو ہم کیسے روک سکتے ہیں مسلمانوں کے قتل عام سے ۔ مسلمانوں اپنی کمزوری کا اندازہ لگا لو ، افغانستان ، پاکستان ، ایران، عراق، سعودی عرب، شام ، لبنان، مصر ، اردون، قطر وغیرہ کونسا ایسا مسلمان ملک ہے جس میں غیر مسلم اپنی مرضی کے مقاصد حاصل نہیں کر رہے ہیں۔غیر مسلموں نے ہماری صفوں کو توڑ دیا گیا ہے ، ہمارا ایمان کمزور ہو چکا ہے ہم خوف کھاتے ہیں تو صرف اور صرف دنیا کے طاقتو ر ممالک سے ، اﷲ کا خوف ہمارے دلوں سے ختم ہو چکا ہے ۔ میری تمام مسلمان ممالک کے سر براؤں سے سے گذار ش ہے کہ اگر بر ما کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کر سکتے تو کم از کم برما کے بدھ بھکشوں کے پاؤں میں گر کر برما کے مسلمانوں کی زندگی کی بھیک تو مانگ لیں ۔مسلمانوں تمھارے دل اور ضمیر مردہ کیوں ہو چکے ہیں؟ جن بچوں کو ایک تھپڑ مارنے کو دل نہیں کرتا بدھ بھکشو اور مگھوں ان کو زمین پر لیٹا کر اوپر کھڑے ہو جاتے ہیں اﷲ کا واسطہ ہے برما کے مسلمان کلمہ گو ہیں ہمارے بھائی ہے ان کے بچے ہمارے بچے ہیں ان کی زندگیا بچا لو اﷲ تعالی آپ لو گوں کو اس جہاں میں بھی اور اس جہاں میں بھی اجر دے گا۔ یا ﷲ مسلمانوں کی مدد فرما اور ہمارے ایمان کو مظبوط فرما( آمین)

تحریر:
طاہر ندیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں