97

ملکوال اور پنڈدادنخان کے درمیان چک نظام کے مقام پر دریائے جہلم میں 60 افراد اور 40 موٹرسائیکلوں پر لدی اور لوڈکشتی الٹ گئی

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی طرف سے ریلوے وکٹوریہ پل کے ملحقہ رستے بند کئے جانے کی بنا پر ہزاروں لوگ خطرناک کشتیوں پر سفر کرنے لگے، ملکوال اور پنڈدادنخان کے درمیان چک نظام کے مقام پر دریائے جہلم میں اور لوڈکشتی الٹ گئی، کشتی میں 40 موٹرسائیکل لوڈ کئے گئے تھے جبکہ 60 افراد سوار تھے ،متعلقہ ٹھیکیدار کو غیر معیاری کشتیاں استعمال کرنے پر ڈپٹی کمشنرز جہلم اور سرگودھا اور متعلقہ ادارے کی طرف سے کھلی چھٹی
ملک وال(نامہ نگار) تفصیلات کے مطابق پنڈدادنخان سے ملک وال آنے والی اوور لوڈڈ کشتی دریا میں اترتے ہی الٹ گئی تاہم دریا کے کنارے کے قریب یہ حادثہ پیش ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی مدد آپکے تحت دریا سے باہر نکلنے اور اپنے موٹرسائیکل نکالنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن چند موٹرسائیکل تا حال دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔واضح رہے کہ اڑھائی ماہ قبل عیدالفطر کے دوسرے روز اسی چک نظام کے مقام پر موجود ریلوے وکٹوریہ پل سے گزرنے کے دوران ایک 15 سالہ لڑکی سیلفی لیتے ہوئے دریا میں گر کر جاں بحق ہوئی تو اسکے لواحقین نے لاش نہ ملنے پر ملکوال تا پنڈدادنخان ریلوے ٹرین احتجاجاً روک لی جس کے بعد ریلوے انتظامیہ نے ریلوے پل کے اوپر بنا موٹرسائیکل سواروں کارستہ بندکردیا،اب ہر روز ایک ہزار کے قریب موٹرسائیکل سوار پنڈدادنخان،ملکوال،بھیرہ،کھیوڑہ،ہرن پور اور دیگر علاقوں میں آنے جانے کے لئے کشتیوں کے ذریعے دریا کو عبور کرتے ہیں۔ بار ہا ریلوے کے افسران سمیت وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ دریائے جہلم پر چک نظام کے مقام پر ٹریفک پل نہیں ہے اور تین اضلاع کی لاکھوں کی آبادی ریلوے پل چک نظام سے ملحقہ رستے سے گزرتی ہے لہذا موٹرسائیکل سواروں کے لئے ریلوے پل کا رستہ کھولا جائے مگر کسی کو شائد عوام کے مسائل کا اندازہ ہی نہیں ہے۔اہل علاقہ نے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ڈی ایس ریلوے راولپنڈی عبدالمالک سے مطالبہ کیاہے کہ عیدالفطر کے دوسرے روز چک نظام کے مقام پر ایک لڑکی ڈوبی تو ریلوے پل کا رستہ بند کر دیا گیاتو اب عیدالاضحٰے کے دوسرے دن اگر اسی جگہ یہ کشتی ڈوب جاتی اور 40/50 لوگ خدانخواستہ جان کی بازی ہار جاتے تو اس کے بعد ریلوے پل کا رستہ کھولنے کی بجائے ابھی رستہ کھول دیا جائے۔واضح رہے کہ دریا پر موجود کشتیوں کا ٹھیکیدار جو کشتیاں چلا رہا ہے انکی حالت بھی غیر معیاری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور جس پیمائش کے مطابق کشتیوں کا حکومت کی طرف سے معیار مقرر کیا گیا ہے بعض کشتیاں اس پیمائش سے کم یعنی چھوٹی بھی ہیں اور ان میں اوور لوڈنگ کی جاتی ہے جو کسی بھی وقت حادثہ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں