72

“حصار ضبط” مسلمانوں کے ٹھیکیدارو ور برمی مسلمان .تحریر انعام ملک

“حصار ضبط”
مسلمانوں کے ٹھیکیدارو ور برمی مسلمان
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں لگ بھگ ۱۸بلین مسلمان آبادی ہے جو پوری دنیا کی کل آبادی کا ۲۵فیصد ہیں ان میں ۸۰ سے ۹۰فیصد سنی مسلمان اور باقی شعیہ مسلمان ہیں دنیا کا دوسرا بڑا مذہب اسلام ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے مسلمانوں کی زیادہ تعداد سنٹرل ایشا میں ہے جو کل مسلم آبادی کا ۳۵فیصد ہیں اس وقت دنیا میں 48اکثریتی مسلم ملک ہیں جن میں سے 34 ممالک نے اسلامی اتحاد کے نام سے ایک اجتماعی فوجی اتحاد بھی بنایا ہے سب کو کل ملا کر ہم “امت مسلمہ” کہہ سکتے جو ایک اللہ اور اس کے رسول ص کے ماننے والے ہیں لیکن ان سب کا المیہ یہ ہے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ یہ فقہی ، فروحی، سرحدی اور مداخلتی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں شیر شاہ سوری سے مرنے سے پہلے اس کوئی حسرت پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میں لاہور سے اس جی ٹی روڈ کو مکہ مدینہ تک لے کرجانا چاہتا تھا حالانکہ کے راستے میں تمام اسلامی ممالک تھے لیکن ان کے آپسی معاملات کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر رہا اس وقت دنیا میں غیر حل طلب مسائل میں دو اہم ترین مسائل کشمیر ، فلسطین اور افعانستان کے بھی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں اب شام برما کو اس میں شامل کر لیا گیا ہے میں عموماً مذہبی معاملات پر قلم کشائی نہیں کرتا ہوں لیکن چند دنوں میں شوشل میڈیا پر برمی مسلمانوں کے نام پر ایسی ویڈیو منظر عام ہر آئی کہ قلم آٹھانے سے ہاتھ روک نہیں پایا بہت لوگ جہاد کے فتوے دے رہے تھے بہت سے فیس بکی دوست دوسروں کیلئے علم جہاد بلند کرکے خود چار چھ پوسٹ کے بعد آرام دہ بستر پر سو گئے ہیں کئی حکومت پر تنقید کررہے تھے حقیقت کیا ہے اس جنگی حالات میں کون یہ فلم بنا بنا کر اپلوڈ کرُرہا ہے ویڈیوں شئیر کرنے والے افراد یہ بھی نہیں دیکھ رہے ہیں اس میں بولی جانے والی زبان برمی ہے بھی یا نہیں یہ سین کسی فلم سے لئے گئے ہیں یا حقیقی ہیں برما کا نیا نام میانمر ہے-برما کی ٹوٹل آبادی 52 بلین ہے-جس میں سے 87 ٪ بدھسٹ، تقریبا 6٪ عیسائی ،4٪ مسلمان اور آدھی فیصد ہندو آبادی ہے- اس ملک کا سرکاری طور پر کوئی مذہب نہیں ہے-مطلب یہ سیکولر سٹیٹ ہے- برما کی ایک ریاست رکھائن ہے(جس کو اردو میں ارکان بھی کہا جاتا ہے)- اس ریاست میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے- اور ہندو بھی رہتے ہیں لیکن انکی آبادی کم ہے- برما کی سرحد کے ساتھ پانچ ممالک کی سرحد ملتی ہے- جس میں بنگلہ دیش، انڈیا، چین، تھائی لینڈ اور لؤس- لیکن سب سے زیادہ اس ملک پر ہولڈ چین کا ہے- آپ برما کو چین کی کالونی بھی کہہ سکتے ہیں-بات ہورہی تھی برما کی ریاست رکھائن کی-1982ء میں برما نے سٹیزن شپ کا ایک قانون پاس کیا جس کے مطابق رکھائن کی ریاست میں رہنے والے لوگ برما کے شہری نہیں بلکہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آئے ہیں- بالکل بہاریوں کی طرح جو کراچی میں موجود ہیں برما کی حکومت کے مطابق انکا رہن سہن، شکلیں، رسم و رواج سب بنگالیوں سے ملتا جلتا ہے لہذا یہ لوگ بنگالی ہیں اور برما کے شہری نہیں-( برما کے مطابق)- جن لوگوں کو برما کے شہری ماننے سے انکار کردیا گیا ان لوگوں کو روہنگیا کہتے ہیں- اس میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی شامل تھے- لیکن مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور ہے- بنگلہ دیش کی حکومت نے ان لوگوں کو اپنا ماننے سے انکار کردیا- اور یہ موقف دیا کہ یہ لوگ برما کے ہیں انکا بنگلہ دیش سے کوئی تعلق نہیں-لہذا روہنگیا کے لوگ بنگلہ دیش اور برما کی حکومتوں کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھنے لگے-حیرت کی بات ہے برما کی باقی ریاستوں اور شہروں میں بسنے والے مسلمان اقلیت کو برما کی شہریت کی سہولت میسر ہے لہذا ان مسلمانوں نے ان بیچارے روہنگیا لوگوں کی کسمپرسی پر آواز اٹھانے کی کبھی کوشش نہیں کی لیکن ہم ٹھہرے اسلام کے ٹھیکیدار رکھائن کی سرحد بنگلہ دیش کے ساتھ ملتی ہے جس میں درمیان میں خلیج بنگال آتی ہے- جس میں یہ لوگ اگر کشتیوں پر بیٹھ کر خلیج بنگال کو کراس کرکے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کرتے ہیں تو بنگلہ دیش انکو بنگلہ دیش میں جانے نہیں دیتا-اور یہ لوگ اگر برما واپس آتے ہیں تو واپس برما میں “اسلامی نام نہاد جہادیوں” کی بیغیرتیوں کی وجہ سے یہ لوگ برما کی فوج کا شکا ر بن جاتے ہیں-
کہا جاتا ہے کہ روہنگیا کے لوگ برما میں سکون سے رہ رہے تھے(لیکن انکو شہری کے حقوق حاصل نہیں تھے)- کہ برما کے شہر میں بدھ مت کے ایک ٹیمپل میں بم دھماکہ ہوا جس کی ذمہ داری “اسلامی جہادیوں” نے قبول کی- اس میں 50 بدھسٹ مارے گئے- اس بم دھماکے کو روہنگیا کے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کے لیئے 9/11 بنا دیا گیا- اس واقعہ کو بنیاد بناتے ہوئے روہنگیا کے مسلمانوں کے لیئے برما کی زمین کی تنگ کردی- جس کی وجہ سے روہنگیا کے مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت شروع کردی- لیکن بنگلہ دیش نے وہی ازلی بیغرتی جاری رکھی انکو بنگلہ دیش کی سرحد پر خیلج بنگال میں چھوڑ دیا گیا- اس میں بہت سے لوگ ڈوب کر شہید ہوئے-لیکن برما اور بنگلہ دیش دونوں حکومتوں کو کوئی شرم اور حیا نہیں آئی-نئی تاذہ لہر جو پچھلے ہفتے سے شروع ہوئی ہے اس میں برما کی فوج کی چیک پوسٹ پر ایک حملہ ہوا جس کی ذمہ داری پھر انہی اسلامی نام نہاد جہادیوں” نے قبول کی جس میں دس فوجی مارے گئے- اس کے بعد پھر روہنگیا کے لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی جس کے بعد پھر روہنگیا کے لوگوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت شروع کردی لیکن بنگلہ دیش نے انکو سرحد پر روک لیا- اور تاذہ اطلاعات کے مطابق تقریبا 20 ہزار روہنگیا اس وقت بھی بنگلہ دیش کی سرحد پر خلیج بنگال میں بے یارو مددگار ہیں لیکن ان دونوں ملکوں کو کوئی شرم نہیں آرہی- شرم تو ان درندوں “اسلامی نام نہاد جہادیوں” کو بھی نہیں آرہی کہ ان لوگوں کی بیغرتیوں کی سزا ان بیچارے معصوم روہنگیا کے لوگوں کو مل رہی ہے- لیکن ان لوگوں کو شرم نہیں آرہی-
اب آتے ہیں پاکستان میں بیٹھے فیس بکی مجاہدوں کی طرف جو ان اسلامی نام نہاد جہادیوں کو ہلا شیری دیتے ہیں اور وہ برما میں جا کر اس طرح کاروایئاں کرکے روہنگیا کی مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں- جب بھی اقوام متحدہ میں یہ واقعہ اٹھایا جاتا ہے تو اقوام متحدہ کا منہ ان “اسلامی جہادیوں کی بیغرتیوں” کی وجہ سے بند ہوجاتا ہے- کیونکہ برما کا موقف یہ ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی سے تحفظ کے لیئے اپنے ملک کی حفاظت کررہے ہیں-اس سارے مسئلے سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ تو انڈیا وہ ملک ہے جو اس وقت اس سارے معاملے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے- وہ تصویریں اور ویڈیوز پاکستان میں وائرل کررہا ہے تاکہ انکو دیکھ کر پاکستان کی عوام میں اشتعال پھیلے-اور اس اشتعال کی وجہ سے چین کے خلاف پاکستانیوں کی نفرت میں اضافہ ہو-کیونکہ برما چین کی کالونی ہے-یہ مسئلہ ایک سیاسی نوعیت کا مسئلہ ہے جس کو یہ مذہبی جنونی اسلام اور کفر کی جنگ بنانے کی پوری کوشش کرہے ہیں- اس مسئلے کو بڑھکوں اور نام نہاد مولویوں کے جہاد کی بجائے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے- برما پر پریشر ڈالنے کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا- ایک وفد بنایا جائے جو چین سے بات کرے اور چین کو راضی کرے کہ برما سے اس معاملے پر ایکشن لینے پر زور دے-اور عالمی برادری کو بنگلہ دیش پر زور دینا چاہیئے اسکو پریشر میں لائے کہ وہ روہنگیا کے لوگوں کو بنگلہ دیش میں پناہ کی اجازت دیں- تم سے تو یورپ اچھا ہے جو اس وقت لاکھوں پناہ گزینوں کو پناہ دیکر پھر کافر کا کافر ہے جبکہ تم مسلمان بے گھر، بے وطن لوگوں کو گھر نہیں فراہم کرسکتے-اور باتیں تم چاند پرجانے اور مریخ فتح کرنے کی کرتے ہو-باتوں اور نعروں میں تمہارے گھوڑے بحر ظلمت میں بھی دوڑتے ہیں نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر تک پھیلے مسلمان کی انسانیت کہں مر گئی ہے ۔ بیس یا تیس ہزار لوگوں کو کوئی بھی اسلامی ملک پناہ دے سکتا ہے ترکی کے صدر طیب اردگان بنگلہ دیش کو حکم صادر کرکے واہ واہ بٹورنے کے بجائے ایک بحری جہاز میں سب کو لاد کر ترکی لا سکتے ہیں لیکن نہیں کریں گئے کیونکہ باتوں اور خارجہ داخلہ پالیسی پہلے دیکھی جاتی ہے اب ہو گا کیا؟ پہلے یہ چورن سوشل میڈیا اور الیکٹرونک پرنٹ میڈیا پر بیچا جائے گا پھر سیاستدان التوا کی تحریکیں پیش کریں گئے اور سیاست چمکائیں گئے اس کے بعد مذہبی تنظیمیں اپنا دیا روشن کریں گئی اور پھر جہادی تنظیمیں چندے کا ڈبہ لے گھر گھر ان کی امداد کے پیسے اکٹھے کریں گئی یہ ڈرامہ یہاں پہلی بار نہیں ہوُرہا ہے افغانستان جہاد کشمیر جہاد فلسطین جہاد عراق جہاد بوسنیا جہاد اور پتہ نہیں کتنے جہاد کا پیسہ کھایا جا چکا ہے اب ہمیں سوچ اور عقل سے کام لینا ہوگا ہاتھ روکنا ہوگا ہم ایک ادنی سے مسلمان ملک ہیں جو خود اس مذہبی جنونیت میں اپنی لاکھوں جانیں قربان کرچکا ہے ہم اسلام کے ٹھیکیدار نہیں ہیں ویسے بھی یہ معاملات ہر ملک کے داخلی ہوتے ہیں کل اگر کوئی پاک فوج کے آپریشن کے خلاف ان نام نہاد جہادیوں کے حق میں سامنے آئے اور ملک میں عوام کے ہاتھوں مارے جانے والے ڈاکوں اور دہشگردوں کی تصاویر اور ویڈیو کو کسی اور رنگ میں شئیر کرئے تو کیسا لگے گا کیونکہ پاک فوج جن کے خلاف آپریشن کرُرہی وہ بھی مسلمان ہی ہیں برما کا ایشو صرف یہ ہے وہ بدھ مت ہیں ہاں شام کی طرح اگر کوئی مسلمان مسلمانوں پر ظلم کرتا تو ہم اپنے اپنے دھڑے میں رہتے ان بیس تیس ہزار لوگوں کی دوسری بڑی خامی یہ بھی انھوں نے ابھی تک اپنا فرقہ ڈیکلئر نہیں کیا شاید پھر ایران یا سعودیہ کوئی اعلی سا مذمتی بیان دیتے معذرت کے تمام دوست جو یہ ویڈیو اور پوسٹ شئیر کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھ رہے ہیں وہ اس کی تصدیق اور سند حاصل کرلیں کہ یہ واقع ہی برمی مسلمان ہی ہیں یا پس پردہ کچھ اور کھیل ہے اسلام کے چند ٹھیکیداروں نے ہی مسلمانوں کا بیڑا غرق کیا ہے بحثیت مسلمان اسلام ہمیں دوسرے مذاہب کا احترام سیکھاتا ہے اور خداراہ چندے کا بکس آٹھائے ان جہادیوں سے بچ کر رہیں کیونکہ رنگون تو کسی نے جانا نہیں لیکن ان پیسوں سے خودکش جیکٹ تیار ہو جانی ہے جو کل پھر ہماری آنے والی نسلوں کا ہی خون بہائے گئی پہلے اپنا گھر سمبھال لیں پھر دوسروں کے گھروں کی فکر کریں جن دوستو کا جذبہ ایمانی اس تحریر اے مجروح ہوا ان سے پیشگی معذرت لیکن سچ تو سچ ہوتا ہے اللہ مجھے اور آپ کو ایسی آفات سے بچائے امین
تحریر۔ انعام ملک سیاسی تجزیہ نگار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں