70

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھالیہ میں کمروں کی حالت ناگفتہ بہ، دوہزار طالبات شکستہ حال عمارت میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھالیہ میں کمروں کی حالت ناگفتہ بہ ، نامکمل سائنس لیبارٹری،ادھوری کمپیوٹر لیب،ٹوٹا پھوٹا فرنیچر،بوسیدہ واش رومز،پینے کے لئے صاف پانی ندارد،دوہزار طالبات شکستہ حال عمارت میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور،بازار میں بننے والے اونچے پلازوں سے سکول کی حرمت پامال،کوئی بھی ادارہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری، ایک کروڑ مالیت سے بننے والا نیا بلاک بھی طالبات کی ضرورت کو پورا نہ کرسکا،خواتین اساتذہ اور والدین شدید پریشان ،حکومت و اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ۔
پھالیہ(بیوروچیف) پھالیہ شہر کے وسط اور مین بازار میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھالیہ کی عمارت ممبران اسمبلی اور محکمہ تعلیم کے حکام کی غفلت اور چشم پوشی کے باعث شدید مسائل شکار ہوکے رہ گئی ہے،سکول میں زیر تعلیم دو ہزار کے قریب طالبات اور خواتین اساتذہ پرانی خستہ حال عمارت کے نیچے زندگیا ں داؤ پر لگا کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوگئیں،سکول میں ساتویں ، آٹھویں کلاس کی طالبات کھنڈر نماء عمارت میں ٹوٹے پھوٹے تباہ حال فرنیچر سمیت سطح زمین سے تقریباً 5فٹ نیچے بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں ، بارش ہونے کی صورت میں مڈل بلاک میں پانچ پانچ فٹ پانی کھڑا ہوجاتا ہے جس سے کئی بار طالبات کاسامان ضائع اور زندگیاں داؤ پر لگ چکی ہیں اسی طرح سکول میں حصہ ہائی کلاسز کی طالبات کیلئے بنائی گئی سائنس لیب نامکمل سازوسامان کے بغیر طالبات کا منہ چڑھا رہی ہے ، جس سے سائنس مضامین پڑھنے والی طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،جبکہ دیگر طالبات بھی سکول میں نامکمل سہولیات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔سکول میں زیر تعلیم دوہزار طالبات کیلئے صرف6واش رومز ہیں جن کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے جو کسی وقت بھی بڑے حادثہ کا باعث بن سکتی ہے۔سکول میں طالبات کیلئے پینے کے پانی کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہے ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھالیہ کی پرنسپل میڈم فرح شاہینہ نے مسائل بارے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھالیہ ضلع کا سب سے پرانا اور انتہائی اہمیت کا حامل ادارہ ہے اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس ادارہ کیلئے ضلعی انتظامیہ یا منتخب عوامی نمائندوں نے کوئی خاطر خواہ کام عمل میں نہ لایا ہے اور نہ ہی کسی نے اس ادارہ کی بہتری کیلئے کوئی اقدام اٹھایا ہے بازار میں ہونے کے باعث اونچے پلازے بننے سے سکول کی چادر و چاردیواری کا تقدس پامال ہورہاہے جس کا پولیس اور انتظامیہ کو نوٹس لینا چاہیئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سکول میں اس وقت مزید کمروں ، سائنس لیب، کمپیوٹر لیب اور فرنیچر کی اشد ضرورت ہے جبکہ حصہ مڈل میں زیر تعلیم طالبات صحیح معنوں میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر تعلیم حاصل کررہی ہیں ، مقامی ایم پی اے پیر سید طارق یعقوب رضوی کی کاوشوں سے ایک کروڑ روپے مالیت سے 8کمروں پر مشتمل بلاک بنا ہے لیکن وہ بڑھتی ہوئی طالبات کی تعداد کی ضرورت کوپورا کرنے میں ناکام ہے ۔والدین اور معززین شہر نے خادم اعلیٰ پنجاب و دیگر اعلیٰ حکام سے اس گھمبیر صورت حال پر فوری نوٹس لے کر اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں