121

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ پانچویں قسط

ranmal
شاہدنذیر چودھری
شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

حضرت سخی سلمان نوریؒ کو یہ بات معلوم ہو گئی تھی کہ ملاّ کریم الدین اور بعض دوسرے مریدین حضرت نوشہ گنج بخشؒ سے حسد و رقابت محسوس کرنے لگے ہیں۔اس روز حضرت نوشہؒ بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت سخی سرکارؒ کو جلال آ گیا اور ملاّ کریم الدین کو طلب کر کے ان سے باز پرس کی۔ آپؒ نے ملّا کریم الدین کو سختی سے کہا ’’ملّا کریم الدین جسے اللہ دیتا ہے اس سے کوئی اور نہیں چھین سکتا۔ اپنے دل کو کدورتوں سے صاف کر دو۔ بغض و کینہ کا اللہ کے بندوں کے دلوں میں بسیرا نہیں ہوتا۔‘‘۔ اس وقت جب آپؒ ملا کریم الدین کو حالت جلالی میں ڈانٹ بھی رہے تھے اور سمجھا بھی رہے تھے کہ مؤذن نے آذان دی تو آپؒ خاموش ہو گئے اور حضرت نوشہؒ کا ہاتھ تھام کر نماز کے لئے اٹھ کر مسجد کی طرف چل دیئے۔
اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور محبوب اولیاء کی ہر بات میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کا ہاتھ تھام کر احاطہ مسجد میں چلے گئے۔ اذان مکمل ہونے کے بعد حضرت سخی سلمان نوریؒ نے ملاّ کریم الدین سے بلند آواز میں کہا۔
’’ملّا جی امامت کرائیے‘‘۔ ملاّ کریم الدین کے چہرے پر خفگی، ندامت نمایاں تھی۔ وہ ہچکچائے اور معذرت کرکے خاموش ہو گئے۔

حضرت سخی سلمان نوریؒ نے دوبارہ امامت کرانے کی دعوت دی۔ اس بار بھی ملّا کریم الدین نے ان کے حکم کی تعمیل نہ کی۔ سارے نمازی حیران و پریشان تھے کہ آج ملّا کریم الدین کو کیا ہو گیا ہے۔ ایسی کیا بات ہو گئی ہے کہ وہ مرشد کے حکم پر مصلیٰ پر کھڑے نہیں ہو رہے حالانکہ یہ وہی ملاّ کریم الدین تھے جو مرشد کی راہ میں پلکیں بچھاتے اور نہایت ادب و سلیقہ اور نیازمندی سے مرشد کے احکامات کی تعمیل کے لئے بے چین رہتے تھے۔
حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ نے تیسری بار ملاّ کریم الدین کو مخاطب کیا ’’ملّا جی۔ کیا بات ہے۔ آپ کو میری بات سنائی نہیں دے رہی۔ آئیے نماز کرائیے‘‘۔ لیکن ملاّ کریم الدین کے جسم میں جنبش نہ ہوئی۔
جب تیسری بار بھی ملاّ کریم الدین امامت کرانے پر مائل نہ ہوئے تو حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ نے نمازیوں کی طرف رخ کیا اور کہا’’ گواہ رہنا میرے دوستو۔ گواہ رہنا۔ میں نے تین بار ملاّ کریم الدین کو امامت کرانے کے لئے حجت پوری کر لی ہے لیکن ملاّ جی نے معذرت کرلی ہے‘‘۔ یہ کہہ کر آپؒ نے حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئے۔
’’حاجی محمد آپ امامت کرائیں۔‘‘
مرشد کے لبوں سے ابھی الفاظ نکلے ہی تھے کہ حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ دوسرے لمحے میں مصلّیٰ پر کھڑے ہو گئے۔ نماز و دعا کے بعد حضرت سخی سلمان نوریؒ نے درود و سلام کی محفل منعقد کی اور پھر اہل تصوّف و طریقت کے پیروکاروں کو اطاعت مرشد کے بارے میں مفید باتوں سے آگاہ کیا۔ ان کے رموز سے انہیں آشنا کیا۔ آخر میں آپؒ نے بلند آواز میں کہا ’’پس آج سے ہم حاجی محمدؒ کو اپنی نیابت سے نوازرہے ہیں۔ ملاّ کریم الدین نے خود تساہل اور معذوری سے کام لیا اور دستبرداری اختیار کی ہے لہٰذا آج کے بعد تم سب حاجی محمدؒ کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ انہیں آج سے بلکہ ابھی سے وہ سارے امور انجام دینے کی اجازت ہے جو کبھی ہم ادا کرتے رہے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر آپؒ نے اپنے صاحبزادوں شیخ رحیم اور شیخ تاج محمود کو اپنے پاس بلایا اور کہا’’تم دونوں میرے لخت جگر ہو۔ تم میری جائیداد کے وارث تو ہو سکتے ہیں لیکن روحانی وراثت آپ دونوں کو اپنی ریاضت و مشقت اور اطاعت مرشد سے ہی حاصل ہو گی۔ آگے بڑھو اور مستقبل میں امام الاولیا اور مجدد اعظم کے عہدہ پر متمکن ہونے والے حاجی نوشہؒ کے دست مبارک پر بیعت کر کے اپنے دوسرے ساتھیوں کے لئے بھی روشنی اور ہدایت کا راستہ کھول دو‘‘۔ آپؒ کے دونوں صاحبزادوں نے حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے دست مبارک پر بیعت کرنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہ کی اور پھر حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ کے تمام مریدین بھی جوق در جوق حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے دست مبارک پر بیعت کرنے لگے۔
بیعت کا عمل پورا ہو گیا تو حضرت سخی سلمان نوریؒ نے تمام ارادت مندوں، مریدین کی موجودگی میں حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ سے کہا۔ ’’حاجی محمد، اگرچہ آج یہ سب لوگ آپؒ کے حقیقی اور معنوی مقام کا اندازہ کرنے سے معذور ہیں لیکن جب آپؒ ان کی تربیت کا بیڑہ اٹھا لیں گے اور انہیں شریعت و طریقت کے مطابق چلا کر روحانیت کے دروس دیں گے تو ایک روز یہ سب آپ کے اصل مقام سے بھی آگاہ ہو جائیں گے۔ یہ ابھی کچے ہیں۔ آپ نے انہیں پکانا ہے۔ اگر ان سے سہواً کوئی غلط کام ہو جائے یا یہ نادانستگی میں آپ کی بے ادبی کر بیٹھیں تو آپؒ درگزر کیجئے گا۔ اللہ کے ولیوں کو خلقت کا دل جیتنے کے لئے درگزر ہی کرنی چاہئے۔ مخلوق خدا کی اصلاح کرنی ہے تو نرمی اور پیار کا راستہ اختیار کرنا‘‘۔
حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ نے مرشد کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور دلگیر انداز میں فرمایا۔ ’’حضرت جی۔ میں اس قابل نہیں ہوں۔ آپؒ مجھ ناقص و گناہ گار پر اتنی بھاری ذمہ داری ڈال رہے ہیں‘‘۔
’’حاجی محمد اللہ تعالیٰ استطاعت کے مطابق ہی اپنے بندوں پر بوجھ لادتا ہے۔ انشاء اللہ آپ ربّ ذوالجلال کی عطا و فیض سے یہ بوجھ اٹھا لیں گے‘‘۔ خلافت ملنے کے بعد حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ رات بھر نوافل ادا کرنے اور گریہ زاری میں مصروف رہے۔ نماز فجر کے بعد اپنے مخصوص اوراد و وظائف ادا کرنے کے بعد حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ کے مریدین آپؒ کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ اس دوران کئی سائل بھی آ پہنچے۔ آپؒ سے کہنے لگے‘ ’’حضرت جی۔ ہمیں سخی سرکارؒ نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اب کوئی بھی مسئلہ ہو تو میرے پاس آنے کی بجائے حاجی محمد کے پاس جایا کرو‘‘۔
پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ کی خدمت میں جو بھی سائل آتا یا بیعت کی غرض سے پہنچتا تو وہ اسے حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے پاس بھیج دیتے۔آپ کے پاس دوسرے آستانوں کے مریدین بھی آنے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں