103

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ قسط نمبرتین

ranmal
شاہدنذیر چودھری
شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت نوشہ گنج بخش قدس سرہٗ کو کم سنی میں ہی علم لدنی عطاکردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ نور بصیرت سے غیر معمولی طور پر کشادہ فرما دیا تھا۔ آپ کے استاد معظم حافظ قائم الدین صاحب باطن اور عارف تھے لہٰذا انہیں نور باطن سے اس بات کا علم ہو گیا کہ حاجی محمد کا غیر معمولی طور پر علوم پر دسترس حاصل کرنا مشیّت الٰہی کا ایک سبب اور اہم رازہے۔ استاد معظم اپنے شاگرد رشید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے ’’اے حاجی محمدؒ آپ کو علم لدنی سے سرفراز کیا گیا ہے اور اب آپ کو ہم سے مزید تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علوم ظاہری وباطنی کے اسرار و رموز سے آشنا کر دیا ہے تاہم میرے لئے یہ بات ہی باعث فخر و نجات ہے کہ میں نے آپؒ کو چند علوم سکھائے اور ممکن ہے میرا یہ فعل ہی میرے لئے نجات کا باعث بن جائے‘‘۔
علم لدّنی سے مالا مال ہونے کے باوجود حضرت نوشہ گنج بخش قدس سرہٗ نے فقّہ ،حدیث، نحو، منطق، فلسفہ، کلام، معانی اور تفسیر کی تعلیم حاصل کی۔ آپؒ تجوید و قرآت اور علوم و فنون کے لئے شیخ عبدالحق عرف شیخ حقو کے مدرسہ میں زیرتعلیم رہے اورا ن تعلیمی مدارج کو طے کرنے کے بعد باقاعدہ مجاہدے میں مشغول ہو گئے۔ آپؒ ریاضت کے دلدادہ تھے لہٰذا کم سنی میں شب بیداری کرتے ،نوافل ادا کرتے اور تلاوتِ قرآن پاک سے خود کو ترو تازہ رکھتے تھے۔ نو برس کی عمر کیا ہوتی ہے، چونکہ آپؒ مادر زاد ولی تھے لہٰذا تزکیہ نفس کے لئے اوراد و وظائف سے رغبت ان کی جبلت میں شامل ہوگئی تھی۔ آپؒ نے نو برس کی عمر میں ریاضت شروع کی ۔آپؒ کا عمر کے ساتھ ساتھ ریاضت میں بھی انہماک واستغراق بڑھتا رہا اور پھر جب آپؒ سترہ سال کی عمر کو پہنچے تو آپؒ نے ترکِ دنیا اختیار کر لی۔
ساندل بار کے جنگل کے ویرانے اور تنہائی میں آپؒ نے تزکیہ نفس کی مشکل ترین منازل طے کر لیں۔ اس دوران آپؒ روزے سے رہتے اور نماز مغرب کے وقت روزہ افطار کرتے۔ ساندل بار کے جنگل میں مجاہدے کی لذت نے آپؒ کو ظاہری ضروریات سے بے گانہ بنائے رکھا۔ آپؒ کے اردگرد خطرناک جانور اور حشرات پھرتے رہتے۔لیکن کوئی موذی شے آپ کے پاس بھی نہ جاتی۔ پانچ پانچ کوس تک کسی انسان کا گزر نہیں ہوتاتھا۔ آپؒ دن کی روشنی اور رات کے اندھیروں میں اکیلے تنہا بے خوفی سے یاد الٰہی میں خود کو محو رکھتے اور اسی شوق عشق الٰہی نے آپؒ کونوشاہت کے مقام تک پہنچا دیا۔ آپؒ بچپن سے بے خوف اور شجاع تھے لہٰذا اس ویرانے میں آپؒ پر کبھی خوف طاری نہیں ہوا تھا۔
شادی کے بعدآپؒ نے ویرانوں میں رہنا ترک کر دیا لیکن اپنے اطوار نہ بدلے۔ چھ سال تک رات بھر دریا کے کنارے کھڑے ہو کر عبادت کرتے رہے۔ پھر نماز فجر کیلئے مسجد نوشہرہ تشریف لے جاتے اور دن بھر تلاوت قرآن پاک فرماتے۔
حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک بار ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے آپؒ کے گاؤں پر حملہ کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈاکوؤں نے گاؤں کو گھیر لیا ۔وہ تمام مردوں کو شکست فاش دے کر گاؤں لوٹنا چاہتے تھے کہ اچانک حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ گھر سے باہر نکلے۔ آپؒ کے ہاتھ میں تیر کمان تھی۔ گاؤں کے سارے مرد ڈاکوؤں سے شکست و خوف کھا کر بھاگ گئے تھے۔ ڈاکوؤں نے جب دیکھا کہ ایک کم سن لڑکا تیر کمان سنبھالے ان کی راہ میں آ کر کھڑا ہوا ہے تو وہ قہقہے لگانے لگے۔ ان کا سردار حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’تو نے دیکھا نہیں گاؤں کے سارے مرد بھاگ گئے ہیں۔ کیا تجھے موت کھینچ لائی ہے۔‘‘

’’موت سے صرف اللہ تبارک تعالیٰ ہی آگاہ ہیں کہ کس نفس کو کب موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ تم نے ظلم اور گناہ کیا ہے۔ بے گناہوں کا قتّال کر کے تم گاؤں کو لوٹنا چاہتے ہو لیکن ہمارے ہوتے ہوئے تم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘ یہ کہہ کرحضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ نے کمان پر تیر چڑھایا تو ڈاکوؤں کا سردار جسے عام بچہ سمجھ رہا تھا وہ ڈاکوؤں کی بھاری جمعیت کے لئے لشکر جرار ثابت ہوا۔ حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ نے تیر چھوڑنے سے پہلے ان سب کو خبردار کیا’’ میں کسی کو ناحق نہیں مارناچاہتا۔ بہتر ہو گا تم واپس چلے جاؤ۔ اب اگر کسی نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میرے نشانہ سے بچ نہیں سکے گا‘‘۔
ڈاکو آپؒ کی دھمکی کو خاطر میں نہ لائے اور آگے ہی آگے بڑھنے لگے تو آپؒ نے تیر چھوڑنا شروع کر دیئے۔ جو ڈاکو آگے بڑھتا وہ آپؒ کے تیر کا نشانہ بنتا۔ آپؒ کا نشانہ بڑا پختہ تھا۔ روایت ہے کہ آپؒ تیر اندازی میں اتنے طاق تھے کہ ایک تیر بھی نشانہ سے خطا نہ جاتا تھا۔ آپؒ نے ڈاکوؤں کی بھاری جمعیت کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
حضرت سیدنوشہ گنجؒ بخش باوقار اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ اونچا لمبا قد ،مضبوط جسم،ماتھا کشادہ، چوڑا سینہ، مضبوط بازو، رنگ گندمی ، روشن اور موٹی آنکھیں، رخسار پُرگوشت اور دانت چمکدار، داڑھی لمبی اور گنجان۔۔۔ آپؒ رئیسانہ جاہ وجلال کے مالک تھے مگر جب چلتے تو انتہائی عاجزی و انکساری سے زمین پر قدم رکھتے، نگاہ نیچی ہوتی اور گفتگو میں نرمی برتتے ۔
اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت نے حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ کو گوناں گوں خوبیوں سے نوازا تھا۔ آپؒ دین کی تبلیغ اور روحانی ترویج میں ہی بلند پایہ نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کے دستور کے مطابق کھیتی باڑی سے لیکر کئی دوسرے پیشوں میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ آپؒ کی تیر اندازی کا زمانہ معترف تھا اور یہ بات ضرب المثل بن گئی تھی۔ جہاں ڈاکوؤں کو مار بھگانے اور تیراندازی کا ذکر ہوتا آپؒ کی مہارت اور شجاعت کا ذکر کیا جاتا۔ آپؒ نے دوران تعلیم ہی شمشیر زنی سیکھ لی تھی۔ آپؒ دریائے چناب کی تیز و سرد لہروں میں تیراکی کرتے اور مشّاق تیراک بن گئے تھے۔ بحر روحانیت کے شناور تو تھے ہی ۔۔۔لہٰذا جب کوئی ہم عمر اور تجربہ کار بھی تیراکی کے لئے مقابلہ کی دعوت دیتا تو آپؒ کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوتا تھا۔ آپؒ نے کاغذ پر سونے کی پان چڑھانا بھی سیکھ لیا تھا۔ یہ اُس زمانے کا بہت نادر مقبول اور نہایت باریک فن تھا اور حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ اس میں طاق تھے۔ آپؒ کو نباتات کے علوم پر بھی دسترس تھی۔ آپؒ ادویہ سازی بھی کرتے اور آپؒ کی ادویہ سے بہت سے موذی امراض میں مبتلا افراد نے شفا پائی۔ آپؒ روشنائی بھی بنا لیتے تھے۔ گھڑ سواری میں بھی آپؒ کا مقابلہ کرنا مشکل تھا۔ پہلوانی سے بھی آپؒ کو حددرجہ رُغبت تھی۔ آپؒ جسمانی طور پر بہت زیادہ مضبوط تھے۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنے دوستوں کے ہمراہ لاہور کا دورہ کیا تھا۔لاہور پہنچتے ہی سب سے پہلے آپؒ نے وہاں مدفون بزرگان دین کے مزارات کی زیارت کی اور حیات اولیاء اللہ سے ملاقاتیں کیں۔ گھر واپسی سے پہلے آپؒ نے اپنے مصاجین سے خواہش ظاہر کی اور کہا’’ میں نے لاہور میں شریعت و طریقت کے پہلوانوں کا تو ذکر سنا ہوا ہے اور جسمانی طور پر تن آور شاہ زوروں کا بھی۔ میں نے مزارات مقدسہ پر حاضریاں دے لی ہیں لیکن دل چاہتا ہے کہ لاہور کے کسی نامی گرامی پہلوان سے بھی ملتا ہوا جاؤں۔‘‘
آپؒ کو معلوم ہوا کہ ان دنوں بیجاپور سے ایک شاہی پہلوان آیا ہے۔ آپؒ کو اشتیاق ہوا اور آپ شاہی اکھاڑے میں چلے گئے۔ اس وقت شاہی پہلوان لنگوٹ کَس کر اپنے پٹھوں کو داؤ پیچ سکھا رہا تھا۔ اگر کوئی پٹھہ غلط داؤ لگاتا یا اس کی ہدایت پر عمل نہ کرتا تو شاہی پہلوان غصے میں آ جاتا اور پٹھوں کو گالیاں دینے لگتا۔ حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ کو اس کی متکبرانہ استادی پر تعجب ہوا کہ ایک طاقتور پہلوان اپنے سے کمزور اور خاص طور پر شاگردوں کو اس طرح بھی گالیاں دے سکتا ہے۔ آپؒ اکھاڑے کے پاس ہی کھڑے ہو کر شاہی پہلوان کا جائزہ لے رہے تھے۔ وہ گرانڈیل نما انسان تھا۔ اس کی نظر آپؒ پر پڑی تو آپؒ کے قدکاٹھ کو دیکھ کر اس نے انگلی آپؒ کی طرف اٹھائی اور نہایت بدتمیزی سے مخاطب کرنے کے بعد پوچھا’’ تم پہلوان ہو‘‘۔
’’ہاں جی میں بھی پہلوان ہوں‘‘ حضرت نوشہ گنج بخش قدس سرہٗ نے دبی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
’’لڑو گے؟ لنگوٹ کس لو اور ذرا میرے پٹھے کے ساتھ ایک پکڑ تو دکھاؤ‘‘۔ شاہی پہلوان نے آپؒ کے کسرتی اور مضبوط جسم کا جائزہ لے کر کہا۔
’’پہلوان جی۔ میں آپ کے پٹھے سے کشتی نہیں لڑوں گا‘‘۔ آپؒ نے اپنی آواز قدرے بلند کی۔
’’کیوں۔ کیا بات ہے۔ کیا یہ تیری دف کا ہے‘‘۔ شاہی پہلوان نے آپؒ کا جواب سن کر طنزیہ کہا۔ ’’اگر تیری دف کا بھی ہے تو کیا ہوا۔ذرا میں بھی دیکھوں۔ لاہوریوں کی دف میں کتنی جان ہے۔‘‘
’’پہلوان جی۔ میرا کسی دف سے تعلق نہیں ہے‘‘۔ حضرت سیدنوشہ گنج بخش قدس سرہٗ نے اسے دعوت مبازرت دیتے ہوئے کہا’’ میں تو پہلوان جی آپ سے کشتی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ آپؒ نے شاہی پہلوان کو اپنے مقابلے میں کیا مانگ لیا اکھاڑے میں جیسے بھونچال آ گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں