157

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔ ۔ ۔قسط نمبر ۱

noshah-ganjh-bakhsh

شاہدنذیر چودھری
شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂنوشاہیہ کی خدمات

مغلیہ سلطنت کا فرمانروا شاہجہاں تفکّر و تذبذب میں مبتلا تھا۔اس وقت وہ لاہور میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ امرائے سلطنت اورامیرانِ عساکر سے تجاویز حاصل کرنے کے باوجود وہ قندھار پر چڑھائی کرنے سے پہلے غور و خوض کرنا چاہتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا تین بار قندھار فتح کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا تو چوتھی بار حملہ کی صورت میں ناکامی ہوئی تو سلطنت مغلیہ کا دبدبہ اور ساکھ متاثر ہو کررہ جائے گی۔صفوی سلطنت مغلوں کی پے درپے شکست سے دلیر ہوجائے گی اور وہ اُنکی راجدھانی کے لئے درد مستقلہ بن جائے گی۔
شہنشاہ شاہجہاں قندھار فتح کر کے اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے بیٹوں اورنگ زیب کو دوباراور دارا شکوہ کو ایک بار قندھار پر حملہ کرنے کیلئے بھاری لشکر دے کر بھیجا تھا لیکن دونوں شہزادے قندھار کے قلعہ پر قبضہ نہیں کر سکے تھے۔شاہجہاں نے پہلے1651ء پھر 1652ء میں اورنگ زیب کو پچاس ہزار تجربہ کار سپاہ کے ساتھ قندھار پر حملہ کرنے کیلئے بھیجا تھا، اورنگ زیب نے صفوی فوج کو قندھار کے قلعہ سے باہر تو شکست دے دی تھی لیکن وہ شہر میں داخل نہ ہوسکا تھااور کئی مہینوں تک محاصرہ کرنے کے بعد واپس لوٹ آیا تھا۔
1653ء میں شاہجہان نے اپنے لاڈلے شہزادے دارا شکوہ کو بھاری توپ خانہ کیساتھ قندھار روانہ کیا لیکن وہ توپوں کی مدد سے بھی قندھار کے فولادی قلعہ میں ایک بھی رخنہ نہ ڈال سکا تھا۔شاہجہان کے پاس اسلحہ و تجربہ کار شجاع سپاہ کی کمی نہ تھی ۔اس نے اس سے کمتر وسائل کیساتھ کئی بڑے دشمنوں کو شکست فاش دی تھی لیکن قندھار پر دسترس حاصل نہیں کرپارہا تھااور یہ غم اسکے لئے سوہان روح بن گیا تھا۔ یہی وہ بڑی پریشانی تھی جس نے وقت کے سکندر شاہجہان کو بے چین کیا ہواتھا۔
شاہجہان نماز تہجّد ادا کرنے کے بعد ربّ ذوالجلال کے حضور سربسجود ہوا اور ہدایت و رہنمائی کیلئے گڑگڑا کر دعا کرتا رہا۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد اس کے قلب میں غیر معمولی طور پر اطمینان کی لہر موجزن ہوئی۔ اس نے وزیر نواب سعد اللہ خاں کو طلب کیا اور کہا۔
’’آپ جانتے ہیں ہم لاہور میں کس مقصد عظیم کے لئے آئے ہیں۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں قندھار کو فتح کرنا سلطنت مغلیہ کو دوام اور استحکام بخشنے کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہم نے اپنی مملکت خداداد کو صفویوں اور افغانوں سے محفوظ نہ کیا تو پھر لاہور بھی ان کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہم نہیں چاہتے مؤرخ یہ بیان کرنے پر مجبور ہو جائے کہ ہم اپنی سرحدوں کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ نہ کرسکے سعداللہ ۔ لاہور جو ثقافت کا آئینہ ہے‘ آپ لاہور اور اسکے مضافات میں مغلیہ فن تعمیر کی نادر یادگاریں تعمیر کرا چکے ہیں۔ یہ باغات، نہریں، مقبرے، محلات،مساجد،خانقاہیں۔۔۔ ہم نہیں چاہتے افغان انہیں اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے برباد و ویران کر دیں۔‘‘ شاہجہان کے چہرے پر اپنی سلطنت کی سطوت کا احساس تفاخر بھی نمایاں ہو رہا تھا لیکن پیشانی پر خدشۂ ہائے ناگہانی کے خوف نے بھی ڈیرہ جما رکھا تھا۔ وہ ایک لحظہ کے لئے خاموش ہواتو نواب سعداللہ خان نے ادب سے سر جھکایا اور بولا:
’’ظل سبحانی۔ ارشاد کیجئے۔ آپ کی سپاہ اور رعایا مغلیہ سلطنت کے جاہ جلال اور اس کی سلامتی کا خواب دیکھتی اور اس کی حفاظت کیلئے تن من اور دھن قربان کرنے کے لئے بے قرار کھڑی ہے۔‘‘
’’ہم جانتے ہیں۔ ہمیں اپنی سپاہ کی شجاعت پر بھروسہ ہے۔ اپنی رعایا کے جذبات سے ہم آگاہ ہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں‘‘۔ شاہجہان نے توقف کیااورنواب سعد اللہ خاں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا’’ ہم چاہتے ہیں اس بار ہمیں فتح حاصل ہو۔ قندھار کے قلعے کی خاک ہم لاہور میں لانا چاہتے ہیں۔ آپ لاہور اور پنجاب سے مکمل طور پر باخبر ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا یہاں اور کسی اور جگہ کوئی ایسا مرد قلندر موجود ہے جس کی زیارت کرنے کے لئے ہم اس کی درگاہ پر خود حاضر ہو سکیں اور ان سے اپنی فتح کے لئے دعا کرائیں۔‘‘
نواب سعد اللہ خاں نے کہا’’ آپ کے حکم کی تعمیل ہو گی ظل سبحانی۔ شمشیر کو جب تک دعا کی دھار نہ ملے تو فتح و کامرانی کا خواب شرمندہ ہونے میں دیر ہو جاتی ہے۔ میں ایک ولی کامل کو جانتا ہوں۔ دریائے چناب کے کنارے بستی میں تشریف فرما ہیں۔ مجھے یقین واثق ہے۔ وہ دعا کریں گے تو قندھار فتح ہو جائے گا۔ انشاء اللہ۔‘‘
یہ بات سنتے ہی شہنشاہ کا حزن و ملال کافور ہو گیا’’ تو پھر آپ ان سے ہماری ملاقات کا انتظام کیجئے۔ ہم خود ان کی قدم بوسی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’حضور کے فرمان پر تسلیم خم کرتا ہوں لیکن میں گزارش کرتا ہوں کہ جب تک روحانیت کے اس شہنشاہ اور مرد قلندر کی بارگاہ سے اجازت نہیں ہو گی آپ کا وہاں جانا مناسب نہیں ہو گا۔ فقیر بے نیاز ہوتا ہے۔ ہمیں ان کی بے نیازی کا پاس رکھنا ہو گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ آپ خود جائیں اور ہمارا ہدیۂ نیازمندی پیش کرتے ہوئے قندھار کی فتح کے لئے دعا کرائیے۔‘‘ نواب سعد اللہ خان فرمانروائے سلطنت مغلیہ کا حکم سنتے ہی دریائے چناب کی جانب کوچ کر گئے۔ نواب سعد اللہ خاں مرد قلندر کی خانقاہ پر پہنچا اور ان کی قدم بوسی کرتے ہوئے مغل فرمانروا کی درخواست نہایت عجز و انکساری کیساتھ پیش کی۔ مرد قلندر نے نواب سعد اللہ خاں کی جانب دیکھا اور حکم دیا ’’تمہیں قندھار کا قلعہ فتح کرنا ہے۔وہ قلعہ جو تمہارے شہنشاہ کی توپوں سے نہیں ٹوٹ سکا۔ اچھا تو بھاگ کر جاؤ اوردریا سے ہمارا لوٹا پانی سے بھر لاؤ۔‘‘
نواب سعد اللہ خاں تیزی سے اٹھا اور بھاگتا ہوادریا کے کنارے پہنچا اورلوٹا پانی سے بھر لے آیا۔پھرمرد قلندر کے حضور پیش کر دیا۔ شہنشاہ تصوّف ،مرد قلندر نے لوٹے میں تین بار ہاتھ ڈالا اور تین بار مختلف جگہوں پر پانی کے چھینٹے مار دیئے اور ارشاد فرمایا ’’جاؤ سعداللہ خان اور اپنے شہنشاہ سے کہہ دو ہم نے قندھار کا قلعہ موم کردیا ہے‘‘۔ نواب سعد اللہ خان نے جھک کر آپ کے قدموں کو چھوا اور اپنے روزنامچہ میں مرد قلندر کی باتیں درج کر لیں۔
۔۔۔ پھر وقت نے ثابت کر دیا۔ کچھ ہی ماہ بعد قندھار کا وہ قلعہ جو پے در پے حملوں اور شدید گولہ باری سے بھی ٹوٹ نہیں پاتا تھا، اچانک اسکی فصیل میں تین مختلف جگہوں میں بڑے بڑے سوراخ ہو گئے اور مغل سپاہ کو اس میں داخل ہو کر شہر پر بھرپور حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔
شاہجہان نے قندھار کی فتح کے بعد نواب سعد اللہ خاں کو مرد قلندر کے حضور جاگیریں شکرانہ کے طور پر پیش کرنے کے لئے بھیجا۔ مرد قلندر نے بے نیازی سے جاگیروں کو ٹھکرا دیا تاہم نواب سعد اللہ خان نے مرد قلندر کو اپنے علم و فضل کے دلائل سے قائل کرتے ہوئے کہا ’’حضور یہ صدقہ جاریہ کے طور پر درویشوں اور غریبوں کے لنگر کے لئے ایک وسیلہ بن جائے گا تو خلقت خدا کی خدمت سے اجر و ثواب ہو گا‘‘۔ شاہجہان نے مرد قلندر کو موضع بادشاہ پور، فتا اور ٹھٹھہ عثمان بطور نذرانہ پیش کیا۔ ان موضعات کا خراج اس وقت دو ہزار اکتہر روپے حاصل ہوتا تھاجو مرد قلندر خلقت ربّی کی خدمت کے لئے لنگر پر خرچ کرا دیتے۔
مغلیہ سلطنت کا فرمانروا اپنی سطوت و جلالت کے باوجود قندھار فتح نہ کر سکا مگر جس مرد قلندر کے پانی کے تین چھینٹوں نے قندھار کے قلعے کی سنگلاخ و فولادی دیواروں کو موم کردیا تھا، وہ اپنے عہد کے جلیل القدر ولی، قطب الاولیامجدداعظم حضرت سیّد نوشہ گنج بخش قدس سرہٗ تھے۔ ان کے کمالات باطنیہ، کشف و کرامات اور فیض رسانی کا چرچا پاک و ہند کے علاوہ کشمیر، کابل اور قندھار تک پھیلا ہوا تھا۔ آپؒ کے دست حق پر دو لاکھ سے زائد کفّار کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں